حماس 72

دورہ روس مغربی ممالک کی مخالفت کے باوجود منسوخ نہیں کیا،حماس

مقبوضہ بیت المقدس(رپورٹنگ آن لائن)حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اپنے وفد کے ساتھ روسی دورے کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کئی مغربی ملکوں اس دورے سے روکنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے باجود یہ دورہ منسوخ نہیں کیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے کہاکہ سوویت یونین کے بعد روس کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ روس فلسطین کاز کے لیے اہم اور موثر کردار اداکرسکتا ہے۔انہوں نے روسی وزیر خارجہ کے توسط سے صدر ولادی میر پوٹن کو بھجوائے گئے اپنے خط کا بتایا اور کہا روس فلسطین کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے۔اسماعیل ہنیہ فلسطینی تحریک کے لیے ایرانی حمایت کی تعریف کی۔

انہوں نے اس موقع پر سعودی عرب اور اردن کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے حماس کی خواہش پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے القسام بریگیڈ کے پاس چار اسرائیلی فوجی قیدیوں کے بلیک باکسز کی تصدیق کی اور حماس اس امر کے لیے تیار ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل ہو جائے۔ تاہم اس بارے میں اسرائیلی قابض اتھارٹی کی جاری جوڑ توڑ کی نشاندہی کی جو اس سلسلے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔فلسطینی رہنما ہنیہ نے ایک سوال کے جواب میں حماس اور اسلامی جہاد تحریک کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات کا ھوالہ دیا اور مقصد کی یکسانیت کا ذکر کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں