عطا اللہ تارڑ 14

خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی، عطااللہ تارڑ

اسلام آباد( رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی، صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے اور 13 سال میں اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

انسداد دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث لوگوں کو شہید کیا جاتا رہا، لیکن صوبائی حکومت غافل رہی۔ جب پانی سر سے گزر گیا تو یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا اقدام عوام کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ این ایف سی کے تحت صوبے کو ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور سفارتی فورمز پر افغان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین شدت پسندوں کو استعمال نہ کرنے دے، افغانستان میں 20 ہزار سے زائد شدت پسند موجود ہیں جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چھ ہزار سے زائد جنگجو افغان سر زمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں، شدت پسند افغان سر زمین پر محفوظ ٹھکانوں میں مقیم ہیں اور وہاں مختلف نوعیت کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدت پسندی کے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، تاہم ملک نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے کر نہ صرف اپنی بلکہ دنیا کی سلامتی کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور ملک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو انتہا پسندی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے، لیکن ریاستی ادارے اور عوام مل کر اس خطرے کے مقابلے کے لیے پرعزم ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر بھی کردار ادا کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔

وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پُر امن اور مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، اور پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں