ڈی جی ایکسائز 119

خواتین کی حراسمنٹ۔ڈی جی ایکسائز نے ڈائیریکٹروں کے خلاف چپ سادھ لی۔

رپورٹنگ آن لائن۔۔۔

ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب محمد علی نے ڈائیریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور ریجن سی محمد آصف اور ڈائیریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گوجرانوالہ جام سراج کے خلاف خاتون انسپکٹر کو حراساں کرنے کی درخواست پر ایک ماہ سے زاید عرصہ گزرنے کے باوجود کارروائی نہیں کی۔

لاہور ریجن سی میں بطور انسپکٹر فرائض انجام دینے والی خاتون قرۃالعین نے ڈائیریکٹر جنرل کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا سروس ریکارڈ بے داغ ہے اس کے خلاف ایک بھی انکوائری یا شکایت نہیں ہے لیکن ڈائیریکٹر محمد آصف کے کہنے پر گوجرانوالہ کے ڈائیریکٹر جام سراج نے درخواست گزار کو لاہور سے اپنے پاس گوجرانوالہ ٹرانسفر کروالیا۔ حالانکہ ڈائیریکٹر گوجرانوالہ ایسے احکامات جاری کرنے کے اختیارات نہیں رکھتے تھے۔ یہ اختیار محض محکمے کے ڈائیریکٹر جنرل ہی استعمال کرسکتے ہیں۔

جس پر درخواست گزار قرۃالعین نے ڈائیریکٹر گوجرانوالہ جام سراج کے آرڈر کے خلاف پنجاب سروس ٹربیونل سے حکم امتناعی حاصل کرلیا۔

قرۃالعین نے اپنی درخواست میں مزید موقف اختیار کیا کہ ڈائیریکٹر محمد آصف درخواست گزار کو ناجائز تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتا ہےاسے کہتا یے کہ مجھ سے شادی کرواور انکار پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے۔اور ڈائیریکٹر گوجرانوالہ جام سراج نے اپنے دوست محمد آصف کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی بات کو فوری طورپر مانتے ہوئے درخواست گزار کو گوجرانوالہ ٹرانسفرکرنے کے آرڈر جاری کر دیئے۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محمد علی نے 20 اپریل 2023 کو موصول ہونے والی خاتون انسپکٹر کی درخواست پر سردست کوئی کارروائی نہیں کی۔ اور درخواست کو مبینہ طور پر دبا دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں