محمد جاوید قصوری 20

حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے،مرکزی حکومت کے قرضوں میں سالانہ 11 فیصد اور ماہانہ 1.4 فیصد اضافہ انتہائی تشویشناک ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی حکومت کا قرضہ 49.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 55.4 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بیرونی قرضہ بھی خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ دسمبر 2025 میں بیرونی قرضہ سالانہ 6 فیصد اور ماہانہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ 23.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ مرکزی حکومت کا مجموعی قرضہ سالانہ 9.6 فیصد اور ماہانہ 1.3 فیصد اضافے کے بعد 78.5 ٹریلین روپے کی سطح عبور کر چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعدادوشمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکمران طبقہ ملک کو معاشی استحکام دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ بیرونی قرضہ ڈالرز میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

دسمبر 2025 میں مرکزی حکومت کا بیرونی قرضہ 82.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ نومبر 2025 میں یہ 81.7 ارب ڈالر اور جون 2025 میں 82.5 ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں میں یہ اتار چڑھاؤ دراصل معاشی کمزوری اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا نتیجہ ہے۔ حکمران قرض لے کر عارضی ریلیف دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس کا بوجھ عوام پر مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی قومی خزانے کا بڑا حصہ ہڑپ کر رہی ہے، جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے وسائل کم پڑ رہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر غیر ضروری اخراجات کم کرے، کرپشن کا خاتمہ کرے اور خود انحصاری پر مبنی معاشی حکمت عملی اپنائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والی نسلیں بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبی رہیں گی۔اس وقت ملک کا ہر فرد تین لاکھ 33ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے ، قوم سوال پوچھتی ہے کہ اتنا قرض حاصل کرکے کہاں استعمال کیا جا رہا ہے ؟ عوام کو تو کسی قسم کا کوئی ریلیف میسر نہیں ہے ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی ملک کو سودی معیشت سے نجات دلانے اور پائیدار معاشی نظام کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں