اعظم نذیر تارڑ 8

حکومت نے فوجداری قوانین سے متعلق 100 ترامیم پر مشتمل بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جو اس وقت قائمہ کمیٹی کے پاس زیر غور ہے،وزیر قانون

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے فوجداری قوانین سے متعلق 100 ترامیم پر مشتمل ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جو اس وقت قائمہ کمیٹی کے پاس زیر غور ہے، اس پر خیبرپختونخوا حکومت کی رائے بھی طلب کی گئی تھی لیکن تاحال ان کا جواب موصول نہیں ہوا، اپوزیشن کو قانون سازی کے عمل میں تکنیکی اور عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔

پیر کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن رکن گوہر علی خان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اعلی عدلیہ سے متعلق نمائندگی اور طریقہ کار کو بہتر بنانے کیلئے رولز میں ترامیم کی گئی ہیں جن کے تحت اب ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں ممبران اسمبلی کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا کردار آئینی اور انتظامی نوعیت کا ہے ان کا کسی سیاسی عمل سے تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف تقاریر سے قانون کی حکمرانی، پارلیمان کی بالادستی یا دیگر مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ قانون سازی کے عمل میں تکنیکی اور عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی عمل میں حکومتوں کا عمل دخل نہیں ہوتا، عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزائوں میں بھی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہوتا، اگر کسی فیصلے پر اعتراض ہو تو اپیل کے ذریعے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں کوئی 100 کے قریب ترامیم لائی گئی ہیں اور یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جبکہ وہ اب قائمہ کمیٹی میں ہے، ہم اپوزیشن سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئیں اور وہاں پر اپنا کردار ادا کریں ،

صرف قانون کی حکمرانی کے سبق پڑھانے سے یہ معاملات حل نہیں ہونگے ، اس کیلئے کچھ تکنیکی چیزیں کرنا ہوں گی ، اس میں اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا کرے، ہم نے ان ترامیم پر خیبرپختونخوا کی حکومت سے رائے مانگی تھی تاہم ابھی تک وہاں سے کسی قسم کا جواب نہیں آیا ، یہ مکمل طور پر غیر سیاسی ترامیم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں