کوئٹہ (رپورٹنگ آن لائن) معاون برائے داخلہ بلوچستان نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان ڈاکٹروں کے جائز مطالبات منظور کرے گی۔
معاون برائے داخلہ بلوچستان بابر خان یوسفزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز سے کل رات سے رابطے میں ہیں، ڈاکٹر ماہ نور کو علاج کے لئے کراچی منتقل کردیا گیاہے جبکہ واقعے میں ملوث ملزم کو منتقی انجام تک پہنچا دیا گیا ہے۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ ڈاکٹرز پڑھا لکھا طبقہ ہے، تحمل کا مظاہرہ کریں، ڈاکٹرز کے امن وامان سے متعلق کوئی تحفظات نہیں، وزیر اعلی بلوچستان منگل کو کوئٹہ پہنچتے ہی ڈاکٹروں سے ملاقات کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں ہے ہمیں اتحاد وہ اتفاق کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، ہسپتالوں سے بائیکاٹ کر کے کیا مسائل حل ہو سکتے ہیں؟، ڈاکٹرز کے بائیکاٹ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا علاوہ ازیں حکومت بلوچستان ڈاکٹروں کے جائز مطالبات منظور کرے گی۔
معاون برائے داخلہ بلوچستان نے کہا کہ واقعہ میں ملوث درندے کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا ہے، ملزم نے ہماری بہن ڈاکٹر ماہ نور کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی، ملزم ہمایوں شاہ کو آدھے گھنٹے کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا گیا، ڈاکٹر ماہ نور کے جسم کا کوئی اعضا متاثر نہیں ہوا، ہو سکتا ہے ڈاکٹر ماہ نور نے ہمائیوں شاہ کو کسی بات پر ڈانٹا ہو جس کی بنا پر یہ ری ایکشن سامنے آیا۔
بابر یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کے کوئی محرکات سامنے نہیں آئے، ہسپتال کے اندر سکورٹی فراہم کرنا پولیس کا کام نہیں تاہم ہسپتال کے باہر سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔
واضح رہے پولیس ذرائع کے مطابق سول ہسپتال کے جنرل سرجری وارڈ کے لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکا، تیزاب گردی کے واقعے میں ڈاکٹر ماہ نور اور وارڈ بوائے عبدالرزاق زخمی ہوگئے، ہلاک ملزم ہمایوں شاہ کا تعلق ضلع نوشکی سے تھا۔









