نیتن یاہو 85

حماس کی جنگ بندی معاہدے میں ترامیم ناقابل قبول ہیں،یتن یاھو

تل ابیب (رپورٹنگ آن لائن)اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے پر پیش کی گئی ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔

ان ترامیم کا تعلق قطر کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ معاہدے سے تھا، جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیتن یاھو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس جن تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہے وہ ناقابل قبول ہیں اور یہ اسرائیل کے ان بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں جو کسی بھی معاہدے کے لیے لازمی قرار دیے گئے ہیں۔

اس کے باوجود نیتن یاھو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی مذاکراتی وفد اتوار کو قطر کے دارالحکومت دوحہ روانہ ہوگا تاکہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔سکیورٹی اور سیاسی امور پر مشتمل کابینہ کے حالیہ اجلاس میں غزہ کی انسانی صورتحال سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ ان میں سب سے نمایاں تجویز یہ تھی کہ شہریوں کو غزہ کے جنوبی علاقوں کی طرف منتقلی پر آمادہ کیا جائے۔

کابینہ نے رفح کو ایک انسانی امدادی زون میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی بحث کی، جسے غزہ کی بگڑتی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیلی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ رفح کراسنگ کے متعلق ایک جامع منصوبہ تیار کر کے آئندہ جمعرات تک پیش کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں