ہوائی جہازوں 36

جنوبی بحیرہ چین میں ہوائی جہازوں کے ٹکراو کا حادثہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) یکم اپریل 2001 کو جنوبی بحیرہ چین کی فضائی حدود میں ایک ایسا تصادم ہوا جس نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف چین امریکہ تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم دراڑ تھا، بلکہ یہ چینی عوام کے دلوں میں ایک گہری چوٹ کے طور پر بھی محفوظ ہو گیا ہے، اور یہ واقعہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی معروضی فہم اور غور و فکر کا متقاضی ہے۔

اس روز امریکی فوج کا EP-3 الیکٹرانک جاسوس طیارہ ازخود چین کے جزیرہ ہائنان کے قریب خصوصی اقتصادی زون کی فضائی حدود میں داخل ہو کر غیر قانونی جاسوسی کر رہا تھا۔ چینی بحری فضائیہ کے پائلٹ وانگ وی نے قانون کے مطابق اس کی روک تھام کے لیے پرواز کی، مگر امریکی طیارے نے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں چینی طیارہ تباہ ہو گیا اور وانگ وی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی عمر محض 33 برس تھی۔ حادثے کا ذمہ دار امریکی طیارہ بغیر اجازت چین کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنے پر بھی اتر آیا، جو چین کی خودمختاری اور فضائی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی تھی۔

واقعے کے بعد چین نے ہمیشہ عقل و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ایک جانب اس نے سخت سفارتی احتجاج کرتے ہوئے امریکی اقدام کی شدید مذمت کی اور قومی خودمختاری اور شہید کے وقار کا بھرپور دفاع کیا، جبکہ دوسری جانب انسانی ہمدردی کے تحت امریکی عملے کو مناسب سہولتیں فراہم کر کے واپس بھیج دیا۔ اس کے برعکس امریکہ کا ابتدائی رویہ سخت اور ہٹ دھرمی پر مبنی تھا۔ اس نے معذرت سے انکار کیا بلکہ الٹا دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، اور حادثے میں ملوث اہلکاروں کو وطن واپسی پر اعزازات سے بھی نوازا گیا، جس سے اس کا تکبر اور دوہرا معیار واضح ہو گیا۔

اس وقت، چین کی مجموعی قومی طاقت اور فوجی قوت ابھی ترقی کے مراحل میں تھی۔امریکی بالادستی کا سامنا کرتے ہوئے یہ ضبط بظاہر حکمت کا مظہر تھا، مگر اس کے پس منظر میں ایک بے بسی اور ایک دبی ہوئی خودی بھی موجود تھی۔ چینی عوام جذبات میں بہہ نہیں گئے بلکہ انہوں نے ایک تلخ حقیقت کو گہرائی سے سمجھ لیا کہ بالادستی کے سامنے انصاف کے دفاع کے لیے خود طاقت ہی اصل سہارا ہوتی ہے۔ شہید وانگ وی کی قربانی ہر چینی کے دل میں ایک تیز دھار خنجر کی مانند پیوست ہو گئی، جو پوری قوم کے لیے مسلسل جدوجہد اور خود مضبوطی کا محرک بن گئی۔

گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں چین نے اس تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ اس نے ہمیشہ پرامن ترقی کی راہ اپنائے رکھی اور ساتھ ہی اپنی داخلی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہوئے قومی طاقت اور دفاعی قوت میں نمایاں اضافہ کیا۔ طیارہ بردار جہازوں کی شمولیت، جدید لڑاکا طیاروں کی تیاری، اور بحری و فضائی قوت میں مسلسل اضافہ ہوا ۔ان تمام عوامل نے چین کو ماضی کی کمزور صورتحال سے نکال کر ایک مضبوط مقام پر لا کھڑا کیا۔ یہی خود انحصاری آج جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات میں اس کے مضبوط مؤقف میں بھی جھلکتی ہے۔
آج جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال میں کشیدگی اور پیچیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکہ سمیت چند بیرونی طاقتیں بار بار مداخلت کرتی ہیں ، اور جنوبی بحیرہ چین میں چین کی علاقائی سالمیت کو للکارنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن آج کا چین وہ نہیں جو ماضی میں محض ضبط سے کام لیتا تھا۔جنوبی بحیرہ چین کے علاقے میں ہونے والی غیرقانونی دراندازی اور اپنی خودمختاری کو للکارنے کے مقابلے میں، چین ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹتا ۔

معمول کے بحری اور فضائی گشت، قانونی اور فیصلہ کن کارروائیوں کے ذریعے، چینی عوام جنوبی بحیرہ چین کی علاقائی سالمیت اور سمندری مفادات کا ڈٹ کر دفاع کرتے ہیں، اور اپنی صلاحیتوں سے اپنے سمندری اقتدار اعلیٰ کی دفاعی لکیر کو مضبوط کرتے ہوئے شہید کی قربانی کا حق ادا کرتے ہیں۔

چین ہمیشہ جنوبی بحیرہ چین تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا داعی رہا ہے، اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر خطے کے استحکام کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم اقتدار اعلیٰ کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
وانگ وی کی جانب سے اپنی جان دے کر چین کے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے سے لے کر آج کی مضبوط بحری و فضائی طاقت کے ذریعے جنوبی بحیرہ چین کی حفاظت تک ، چین کا خودمختاری کے دفاع کا عزم ایک تسلسل کے ساتھ قائم ہے، جبکہ پرامن ترقی کا اصول بھی برقرار ہے، اور خود انحصاری کا یقین پہلے سے کہیں زیادہ مزید مضبوط ہو چکا ہے۔

یہ تاریخ ہمیں مسلسل یاد دلاتی ہے کہ وقار طاقت سے جنم لیتا ہے، اور خود انحصاری ہی خود مختاری کی بنیاد ہے۔ چین نے اپنی جدوجہد اور ترقی سے یہ ثابت کیا ہے کہ عروج طاقت کے زور یا جبر سے نہیں بلکہ مسلسل محنت اور خود مضبوطی سے حاصل ہوتا ہے۔ چینی عوام شہید وانگ وی کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، اور آج کی مضبوطی کے ساتھ اپنے وطن کی بری ، فضائی اور بحری سلامتی کا دفاع کرتے رہیں گے، تاکہ تاریخ کا یہ سانحہ دوبارہ پیش نہ آئے، اور دنیا چین کے اپنے حقوق کے دفاع اور پُرامن ترقی کے عزم کو بخوبی سمجھ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں