پوسٹ مارٹم 27

جنرل ہسپتال میں مقتولہ کا پوسٹ مارٹم گریڈ 18کی خاتون ڈاکٹر نے کیا، ابتدائی انکوائری رپورٹ پیش

لاہور 31 اکتوبر(رپورٹنگ آن لائن) جنرل ہسپتال میں مقتولہ کا پوسٹ مارٹم گریڈ 18 کی ریگولر ڈیمانسٹیٹر ڈاکٹر لبنیٰ جبین نے مکمل کیا۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل کو پیش کر دی گئی ہے۔

پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی شفاف جانچ کے لیے پروفیسر خضر حیات گوندل کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ابتدائی انکوائری کے مطابق پوسٹ مارٹم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر لبنیٰ جبین نے قانونی تقاضوں کے مطابق ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کرنے کے لیے سرکاری کاغذات کی تکمیل شروع کی۔ اسی دوران کسی نامعلوم شخص نے ایک کونے سے ویڈیو بنائی، جس میں خاتون ڈاکٹر کو پوسٹ مارٹم کے عمل میں دکھایا نہیں گیا۔

پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فرنزک ڈیپارٹمنٹ کے کسی بھی ڈاکٹر کو انکوائری میں شامل نہیں کیا گیا، تاکہ اصل حقائق غیر جانبدارانہ انداز میں سامنے آ سکیں۔مزید برآں، سرکاری فرائض میں مبینہ غفلت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے صیغہ راز میں نہ رہنے کے شبہ میں ملوث دو ملازمین کو فوری طور پر ملازمت سے معطل کر دیا گیا ہے۔پروفیسر فاروق افضل نے اس موقع پر کہا کہ مریضوں اور لواحقین کا اعتماد بحال رکھنا ادارے کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں