لاہور (رپورٹنگ آن لائن) جنرل ہسپتال کے پروفیسر آف پیڈیاٹرک میڈیسن و ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پیڈیاٹرک انٹروینشنل برونکوسکوپی کے ذریعے 5 ماہ کے معصوم بچے کا کامیاب پروسیجر کر کے اس کی جان بچا لی۔ بچہ ایک ماہ سے پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن اور سانس کی خرابی کے باعث زیرِ علاج تھا، مگر جراثیم کی سخت مدافعت کی وجہ سے مہنگی اینٹی بائیوٹکس بھی بے اثر ثابت ہو رہی تھیں۔
اس پیچیدہ صورتحال میں ڈاکٹر فریاد حسین نے جدید ‘ڈائگنوسٹک برونکوسکوپی’ کا سہارا لیا، جس کے بعد جراثیم کی جانچ (Culture) سے انکشاف ہوا کہ بچے کے پھیپھڑوں میں Klebsiella نامی ‘سپر بگ’ موجود ہے جس پر صرف چند مخصوص ادویات ہی اثر کر سکتی تھیں۔ درست تشخیص اور ٹارگٹڈ تھراپی کے بعد اب بچے کی حالت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے اور اس کی سانس مکمل بحال ہو چکی ہے۔
اس اہم کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ مجھے اپنی میڈیکل ٹیم پر فخر ہے، جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر جدید ٹیکنالوجی سے مریضوں کی جانیں بچانے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور یہی شعبہ مسیحائی کا اصل فرض ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ہسپتال کو ‘مریض دوست شفا خانہ’ بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر فریاد حسین نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کا علاج مستند ڈاکٹروں سے کروائیں اور بلا ضرورت اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے گریز کریں تاکہ جراثیموں میں ادویات کے خلاف خطرناک مدافعت پیدا نہ ہو۔









