بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) نیا چینی قمری سال چینی عوام کی ثقافتی علامت ہے جس میں خاندان کے اجتماع کی گرم جوشی اور اچھی زندگی کے خواب پنہاں ہوتے ہیں۔ ہر سال اس نئے سال سے قبل چینی قومی رہنما عوام سے ملاقات کے لئے بنیادی سطح پر علاقوں اور گلی محلوں کا دورہ کرتے ہیں،عوام کی آواز ،ان کی رائے سنتے ہیں اور انہیں تہوار کی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ سالہا سال سے قائم یہ روایت محض ایک رسم نہیں بلکہ ’’عوام کو سب سے زیادہ اہمیت‘‘ کے انتظامی فلسفے کی واضح تشریح ہے جو عوام اور ریاست کے درمیان مضبوط تعلق کا پتا دیتی ہے۔
چینی رہنما کی جشن بہار کے موقع پر عوام سے ملاقاتوں میں ’’عوام کی خدمت‘‘ سب سے اہم ہدف ہوتا ہے، ’’خلوص‘‘ ان کی بنیاد ہوتا ہے اور ’’عملی اقدامات‘‘ ان کا نتیجہ ۔ یہ دورے نمائش یا شہرت کے حصول کے مقصد سے نہیں ہوتے بلکہ ان سے عوام کی فلاح و بہبود کی گہری فکر کا اظہار ہوتا ہے اور ان کا مقصد بنیادی سطح پر عوام کے مسائل کا براہ راست حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔
2026ء میں گھوڑے سے منسوب چینی قمری سال کے آغاز سے کچھ ہی دن پہلے بیجنگ میں ایک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن پارک، اولڈ ایج ہوم اور جشن بہار کی مارکیٹ کا دورہ کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پھںگ نے عوام سے روبرو بات چیت کی۔عوام کے ساتھ ان کی بات چیت کے ہر پہلو میں خلوص اور سچائی واضح تھی۔
بزرگوں کی زندگی کے معیار کی بہتری کو فلاحی کاموں میں بنیادی اہمیت حاصل ہے اسی لیے چینی رہنما کی توجہ تہوار کے موقع پر کیے جانے والے دوروں میں بھی ان امور پر مرکوز رہتی ہے۔ بیجنگ کی بی زاؤ چانگ نامی گلی کے اولڈ ایج ہوم میں بزرگوں کی ایک کینٹین کا دورہ کرتے ہوئے صدر شی جن پھنگ نے کھانے کی کوالٹی، قیمتوں اور ماحول کا مشاہدہ کرتے ہوئے بزرگوں کے کھانے پینے کی سہولتوں کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا بزرگ اچھا کھانا کھا رہے ہیں اور آرام سے رہ رہے ہیں یا نہیں۔ بزرگوں کی رہائش گاہ میں انہوں نے بزرگوں کی صحت کے انتظام، بحالی کی خدمات اور روزمرہ کی دیکھ بھال کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں ،
اس وقت وہاں موجود بزرگوں سے گرمجوشی سے بات چیت کی اور بزرگوں کی صحت اور خوشحالی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ یہ اقدامات چین میں بزرگوں کے احترام کی روایت کا تسلسل ہیں۔ ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چین بزرگوں کی فلاح و بہبود کے لئے سہولیات کو بہتر بنانے اور ان کی زندگی کے بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ ان دوروں کے دوران سامنے آنے والے مسائل کو بعد میں پالیسی اقدامات کی سمت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے،اور عوام کی جانب سے پیش کی گئی درخواستیں عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کی ترجیحات بن جاتی ہیں ۔
جشن بہار کے موقع پر زندگی کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا اور عوامی سلامتی کو تحفظ دینا تاکہ عوام خوشی خوشی تہوار منا سکیں، اس موقع پر فلاحی کاموں میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ بیجنگ میں واقع لونگ فو مندر کی جشن بہار کی مارکیٹ میں صدر شی جن پھنگ نے تہوار کے موقع پر دستیاب سہولیات کا معائنہ کیا، دکان داروں اور شہریوں سے ملاقات کی اور خصوصی کھانوں اور ثقافتی تخلیقات کو خرید کر تہوار کے پرجوش ماحول کو محسوس کیا۔ انہوں نے مختلف سطح پر کام کرنے والی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ عوام کی ضروریات کا خیال رکھیں، ضروری اشیاء کی فراہمی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ عوام پر سکون اور خوشیوں بھرا نیا سال منا سکیں۔
اس دورے کے دوران انہوں نے بیجنگ کی حکومت کی ورک رپورٹ بھی سنی اور اعلیٰ معیار کی ترقی اور شہری انتظام کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کیں جو عوام کی موجودہ توقعات کے ساتھ ساتھ اگلے مرحلے کی ترقی کی سمت کا تعین کرتی ہیں۔یہ عمل چینی نظامِ حکمرانی کی اس واضح خصوصیت کی عکاسی کرتا ہے جو موجودہ اور طویل مدتی مفادات کے ساتھ ساتھ مقامی اور مجموعی پہلوؤں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے ۔
چینی رہنما کے تہوار کے موقع پر کئے جانے والے دوروں کی روایت کبھی بھی تبدیل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس میں کبھی کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ روایت ’’عوام کو ہمیشہ اہم ترین مقام دینے‘‘ کے پختہ یقین سے جنم لیتی ہے جو چینی نظام کی برتری کی عکاسی کرتی ہے۔اس روایت میں عوام سے ووٹ کے حصول کا لالچ اور دباؤ نہیں ، سیاسی جماعتوں کے درمیان جھگڑا نہیں بلکہ صرف اور صرف عوام کی بہبود کے لئے وفاداری اور ذمہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ یہ روایت دراصل ریاست اور عوام کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرتی ہے جس سے ریاستی انتظام میں انسانی ہمدردی کا عنصر شامل ہوتا ہے اور پالیسیوں پر عوامی حمایت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے پورے معاشرے میں یکجہتی، ہم آہنگی اور ترقی کی قوت پیدا ہوتی ہے۔








