ٹو کیو(رپورٹنگ آن لائن)اس سال ٹوکیو ٹرائلز کے آغاز کی اسیویں سالگرہ ہے۔ اس ٹرائل نے اپنے مضبوط شواہد اور زبردست قانونی استدلال کے ساتھ یہ طے کیا کہ جاپانی عسکریت پسندی نے جارحیت کی جنگ شروع کی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی۔ اس طرح فسطائیت کے خلاف عالمی جنگ کی فتح اور بین الاقوامی عدل و انصاف کا دفاع کیا گیا۔ تاہم، تاریخی وجوہات کی بنا پر، جاپانی عسکریت پسندی کا محاسبہ کبھی بھی مکمل طور پر نہیں کیا جا سکا ، جس کے نتیجے میں جاپانی دائیں بازو کی قوتیں طویل عرصے سے ٹوکیو ٹرائلز کے تاریخی نتائج سے انکار کرتے ہوئے اپنی ثابت شدہ جارحیت کی ذمہ داری سے بچنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
حالیہ برسوں میں، جاپان میں دائیں بازو کی قوتوں نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جاپان کی جارحیت کی تاریخ کو منظم طریقے سے مٹانا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی دائیں بازو کی قوتیں بین الاقوامی مین اسٹریم ماڈلز کو دوسری عالمی جنگ کے مسخ شدہ تاریخی اعداد و شمار مسلسل فراہم کر رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ ماڈلز نے اپنے مکالموں میں واضح طور پر غلط تاریخی تناظر کے ساتھ جوابات پیش کیے ہیں، جیسے کہ نانجنگ قتل عام کو “نانجنگ کا زوال” قرار دینا اور جنوب مشرقی ایشیا پر جاپان کی جارحیت کو “جنوبی وسائل کی تشویش” کے طور پر بیان کرنا، وغیرہ۔
تاریخ کی نصابی کتابوں کو دوبارہ لکھنے سے لے کر غلط معلومات پھیلانے تک، جاپانی دائیں بازو کی قوتوں کی اپنی جارحیت کی تاریخ کو تبدیل کرنے کی ان کوششوں پر بین الاقوامی برادری کو چوکنا ہونا چاہئیے ۔ جاپانی حکومت کی “انفارمیشن وار ” کا ایک اہم مقصد ” دوبارہ عسکریت پسندی” کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا اور نام نہاد “ریاست کو معمول پر لانے” کے لیے رائے عامہ میں سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ جاپانی دائیں بازو کی قوتوں کی طرف سے آںے والے بیانیے میں، چین اور دیگر ممالک کو اکثر “سکیورٹی خطرات” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ جاپان کو “شکار” ملک کے طور پر دکھایا جاتا ہے اور عسکری توسیع کو “امن اور سلامتی کی حفاظت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تاریخ کے حقائق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ چاہے جاپانی دائیں بازو کی قوتیں جو بھی طریقہ استعمال کرتی رہیں ، وہ جاپانی عسکریت پسندی کی وجہ سے دنیا کو پہنچنے والے نقصانات کے ناقابل تردید ثبوتوں کو مٹا نہیں سکتیں۔ اگر جاپان نے اپنی جارحیت کی تاریخ کو تبدیل کرنے کی کوشش جاری رکھی تو اسے لامحالہ ایک بار پھر تاریخ کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑےگا۔








