ثقافتی ورثہ 40

ثقافتی ورثہ کا تحفظ: لاہور کی عمارتوں اور شاہراہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا فیصلہ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پنجاب حکومت نے ثقافتی ورثہ کا تحفظ کرتے ہوئے لاہور کی عمارتوں اور شاہراہوں کے پرانے نام بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر مسلم لیگ (ن) میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت لاہور ہیرٹیج ایریازریوائیول کا اجلاس ہوا جس میں لاہور میں قدیمی اور تاریخی عمارتوں کے بحالی پراجیکٹس پر رپورٹ پیش کی گئی، جاری پراجیکٹ پر پیشرفت کا تصویری جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں لاہور میں روڈز اور سٹریٹس کے پرانے نام بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، جبکہ یونیورسٹی کا درجہ پانے والے سرکاری کالجز کا پرانا نام بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سرکاری کالجز کے نام کے آگے سے یونیورسٹی کا لاحقہ ہٹا کر پرانا نام ہی لکھا جائے گا۔

دوران اجلاس ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں کانوونٹ گارڈن بنانے کا فیصلہ کیا گیا، ٹولنٹن مارکیٹ میں ایوری تھنگ آرگینک کیفے بنانے پر اتفاق ہوا، کانونٹ گارڈن میں سیمی کورڈ ایریا اور شاپس بھی بنائی جائیں گی، بائیک اور کاروں کے لئے دو منزلہ انڈر گراؤنڈ پارکنگ تعمیر ہوگی

اجلاس میں نیو میوزیم بلاک پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی، نیو میوزیم بلاک میں ورلڈ کلاس گیلریز بنائی جائیں گی، قدیمی اسلحہ، سکے، چائنیز اور سکھ گیلری بنیں گی، نیو میوزیم بلاک میں انٹر ایکٹیو سکرین بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہوں گی۔

شاہ عالم گیٹ تا رنگ محل چوک راستے کو پیدل گزرگاہ میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لاہور کی 8 قدیمی اور تاریخی گزرگاہیں بحال کرنے کا فیصلہ بھی ہوا، بھاٹی، موری، موچی، شاہ عالم، یکی، مستی، دلی گیٹ ایریاز کی اندرونی شاہی گزرگاہیں تاریخی آب وتاب کے ساتھ بحال کی جائیں گی، قدیمی شہر میں مریم زمانی مسجد اور دیگر تاریخی عمارتوں کو بھی بحال کرنے پر اتفاق ہوا۔

شاہی گزرگاہوں میں سیاحوں کے لئے الیکٹرک کارٹ بھی چلائی جائیں گی، اکبری گیٹ میں ٹورسٹ انفارمیشن آفس بھی قائم ہوگا

اجلاس میں موچی گیٹ، اکبری گیٹ، یکی گیٹ اور مستی گیٹ کی بحالی کے پراجیکٹ پیش کئے گئے، شاہی قلعہ کی فصیل /دیوار کو قدیمی حالت میں بحال کرنے پر اتفاق ہوا، شاہی قلعہ کے گرد ٹیکسالی گیٹ تا بھاٹی گیٹ فصیل فیز ون میں بنے گی، یکی گیٹ تا مستی گیٹ شاہی قلعہ فصیل فیز ٹو بھی بنے گا، والڈ سٹی کے ارد گرد بدرویں / صاف پانی کی نالی بحال کرنے کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اس کے علاوہ تاریخی عمارتوں کی صفائی اور دیکھ بھال کیلئے ستھرا پنجاب کاسپیشل ونگ بنانے کی تجویز زیر غور آئی، پرانی عمارتوں کے بیرونی حصوں کے یکساں قدیمی ڈیزائن کی بحالی کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، شاہ عالم چوک میں باؤلی باغ کو بھی تجاوزات سے واگزار کر کے بحال کیا جائے گا۔

اجلاس میں نیلا گنبد سے ملحقہ ڈیوڈھی کو تاریخی تعمیراتی مطابقت کے ساتھ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، نیلا گنبد ڈیوڈھی میں سیاحوں کے لئے نیلا گنبد کیفے قائم کرنے پر اتفاق ہوا، نیلا گنبد میں انڈر گراؤنڈ پارکنگ پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، نیلا گنبد میں چوک میں فرسٹ انڈیا بینک، ایوننگ ہال اور پاک ٹی ہاؤس کو تاریخی شکل میں بحال کیا جائے گا۔

دوران اجلاس اندرون لاہور میں ہنرمندوں کی شناخت سے منسوب 36 کوچہ / گلیوں پر رپورٹ پیش کی گئی، داتا دربار کی توسیعی پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا، توسیع کے لئے 18 کنال اراضی حاصل کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متاثرین کو مارکیٹ ریٹس پر ادائیگی کی ہدایت کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں