اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے تفصیلی ملاقات کی جس میں تمباکو کے شعبے کی موجودہ صورتحال، برآمدات، کسانوں کو درپیش چیلنجز اور بورڈ کی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان سے تمباکو کی برآمدات کا 100 ملین ڈالر سے تجاوز کرنا ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ کسانوں، صنعت اور برآمدی منڈیوں کے درمیان ایک فعال اور مؤثر رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے،کسانوں کے لیے منصفانہ قیمت کے تعین میں بورڈ کا کردار قابل ستائش ہے۔وزیر نے زور دیا کہ ٹوبیکو بورڈ تحقیق و ترقی کے بجٹ میں اضافہ کرے تاکہ اعلیٰ معیار کی تمباکو اقسام تیار کی جا سکیں جو عالمی منڈی میں بہتر قیمت پر فروخت ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ پراڈکٹس پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ پاکستان میں تمباکو کی پراسیسنگ، پیکجنگ اور برآمدات کے عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔چیئرمین کی جانب سے بورڈ کی جانب سے فصل کی مانیٹرنگ، ٹریس ایبلٹی اور مارکیٹ ریگولیشن کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، جس پر وفاقی وزیر نے اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر نے تجویز دی کہ ٹریس ایبلٹی سسٹم کو دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے تاکہ پیداوار کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے ٹوبیکو بورڈ کی ڈیجیٹل رجسٹریشن، ڈیٹا کلیکشن اور کسان سپورٹ اسکیموں کو قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کیلئے سبسڈی، ان پٹ سپورٹ اور قرضوں کی فراہمی کے لیے کسان کارڈ جیسے منصوبوں کو فروغ دیا جائے۔ملاقات میں بورڈ کی نئی مارکیٹ ایکسپلوریشن پالیسی کو برآمدات میں اضافے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نئی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دیا جائے تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ تمباکو کی کاشت بھی ترقی کرے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی مجموعی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ وزارت اور بورڈ کے درمیان پالیسی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمباکو انڈسٹری کو مستحکم رکھنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھا جائے گا اور بورڈ کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔









