بیروت(رپورٹنگ آن لائن)ببروت کے جنوبی مضافات میں حارہ حریک کے علاقے میں گزشتہ دو دنوں میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قتل کی جگہ ہر عمر کے ان کے حامیوں اور پیروکاروں کے لیے زیارت گاہ بن گئی ہے۔ پارٹی کے افراد نے ملبے پر حسن نصراللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصویروں کے ساتھ اپنے پیلے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ لوگوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ہم جیت گئے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس مقام کا دورہ کیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق درجنوں تباہ شدہ عمارتیں کھلے میدانوں میں تبدیل ہوگئیں۔ ایک سے زیادہ اپارٹمنٹس کی دیواریں ایک دوسرے کے اوپر ترتیب سے پڑی ہوئی ہیں۔ حسن نصر اللہ اور پارٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے آنجہانی سربراہ ہاشم صفی الدین کے پرستار جنوبی مضافاتی علاقے کے مرکز میں واقع سید الشہدا کمپلیکس کے صحن میں ان کے جنازے کا انتظار کر رہے تھے۔حسن نصراللہ کو جس جگہ مارا گیا وہاں آنے والوں کی سب سے بڑی تعداد نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔
ان میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں مان رہے تھے کہ ان کے جانشین شیخ نعیم قاسم آسانی سے پارٹی کی قیادت کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔عرب ٹی وی نے قتل کی جگہ کا معائنہ کیا جہاں اسرائیلی طیاروں نے مرکزی عمارت کے اردگرد کی عمارتوں کو بھی برابر کر دیا تھا۔ حسن نصر اللہ نچلی سطح پر قلعہ بند کمرے اور کمانڈ آفس میں کام کر رہے تھے۔ یہ آفس ٹنوں وزن کے بموں کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔ ان بموں نے وہاں موجود تمام عمارتوں کو تباہ کر دیا۔ اس مقام پر ایک بڑا گڑھا بھی تھا۔ تباہی کے منظر کا سامنا کرنے والی عمارتوں میں سے ایک کی دیواروں پر حسن نصراللہ کی تصویر آویزاں تھی۔









