بوگس رجسٹریشن 462

بڑا بریک تھرو:چار ہزار گاڑیوں کی بوگس رجسٹریشن کے مقدمے میں215گاڑیارں بحال،اینٹی کرپشن کا مقدمہ مزید کمزور

شہباز اکمل جندران۔۔۔

لاہور میں 4 ہزار 397 گاڑیوں کی مشکوک اور بوگس رجسٹریشن کے مقدمے میں ایک اور بڑا بریک تھرو ہوا ہے جس کے باعث اینٹی کرپشن کا مقدمہ مزید کمزور ہوگیا ہے۔
بوگس رجسٹریشن
پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ اعلی سطحی کمیٹی نے دوران انکوائری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ لاہور میں 4 ہزار 397 گاڑیوں کے سکین ریکارڈ کی مسنگ کے حوالے سے اینٹی کرپشن کے مقدمے کو مزید کمزور کردیا ہے۔
بوگس رجسٹریشن
کمیٹی کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن نے ایف آئی آر میں جن 4 ہزار 397 گاڑیوں کا ذکر کیا ہے وہ حقیقت میں 4 ہزار 119 گاڑیاں ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اینٹی کرپشن کی تحقیقاتی ٹیم نے گاڑیوں کی گنتی ہی غلط کی ہے۔
بوگس رجسٹریشن
جبکہ اس سے بھی اہم خبر یہ ہے کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ان 4 ہزار 119 گاڑیوں میں سے بھی 215 گاڑیوں کی بحالی بیان کی ہے۔اور بتایا ہے کہ ان گاڑیوں کا سکین ریکارڈ پہلے سے موجود ہے۔
بوگس رجسٹریشن

بوگس رجسٹریشن
کمیٹی کی رپورٹ اور سکین شدہ ریکارڈ کی حامل سینکڑوں گاڑیوں کو مشکوک گاڑیوں کی فہرست میں شامل کرنے سے اینٹی کرپشن کا مقدمہ انتہائی کمزور اور خود مشکوک ہوگیا ہے
بوگس رجسٹریشن

واضح رہے،صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے احکامات کے تحت تشکیل پانے والی کمیٹی کے سربراہ گریڈ 20 کے ڈائیریکٹر جنرل نارکوٹکس کنٹرول پنجاب مسعود الحق جبکہ ممبران میں گریڈ 19 کے ڈائیریکٹر ایکسائز فیصل آباد، احمد سعید، گریڈ 19 کے ہی ڈائیریکٹر انفورسمنٹ اینڈ آڈٹ ایکسائز مشتاق احمد فریدی اور گریڈ 18 کے ڈپٹی ڈائریکٹر انفورسمنٹ اینڈ آڈٹ ایکسائز عاصم امین شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں