طاہر اندرابی 13

بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا،دفتر خارجہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم امریکی صدر کی دعوت پر امریکا میں موجود ہیں، وزیر اعظم بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے، بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا، باجوڑ حملے پر افغانستان سے احتجاج کیا ہے، دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دورہ امریکا کے دوران اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، وزیراعظم بورڈ آف پیس اجلاس میں شریک دیگر سربراہان مملکت سے بھی ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق اپنی ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کر سکتا، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا، سابق اسرائیلی وزیراعظم نیٹالی بینٹ کا بیان افواہوں پر مبنی ہے، ہم اس کے کسی بیان کا ردعمل نہیں دیتے، ہم اپنے کشمیری بہنوں بھائیوں کی بھرپور سفارتی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف آج امریکا کے تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے ہیں، واشنگٹن میں شہبازشریف آج بورڈ آف پیس کےافتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وزیراعظم کے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وزراء بھی شامل ہیں، وزیراعظم سینئر امریکی قیادت کے ساتھ اجلاس میں شریک ہم منصبوں سے بھی بات کریں گے، یہ دورہ پاک امریکا دوطرفہ امور کے ساتھ عالمی مسائل پربات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔

علاوہ ازیں دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق، افغان نائب سفیر کو ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ہے جس میں باجوڑ حملے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 16 فروری کو باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز پر ایک دہشت گرد حملہ ہوا تھا، جس کے لیے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے سرحد پار سے آکر کارروائی کی تھی، اس حملے کے نتیجے میں وطنِ عزیز کے 11 بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، ٹی ٹی پی کی پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے، ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے کھلے عام اور بلاروک ٹوک سرگرم ہے۔

افغان سفارت کار کو بتایا گیا کہ اس طرح کے واقعات دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں، طالبان کی متعدد یقین دہانیاں کے باوجود بدقسمتی سے ان پر کوئی واضح یا ٹھوس عمل درآمد نظر نہیں آیا۔

پاکستان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ٹھوس کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں