طلال چوہدری 35

بلوچستان کی بدامنی ”آزادی کی جنگ”نہیں ،معاشی ترقی کے خلاف دہشت گردی ہے، طلال چوہدری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری کارروائیاں کسی صورت ”آزادی کی جنگ”نہیں ،پاکستان کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ایک خاص مقصد کے لئے بدامنی پھیلا رہی ہیں، ان کا مقصد محض پاکستان کو ڈی سٹیبلائز کرنا اور ذاتی مفادات حاصل کرنا ہے جس میں لوگوں سے بھتہ لینا، لوٹ مار کرنا اور سمگلنگ جیسے کاروبار پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا شامل ہے، ریا ست اپنی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس قومی مسئلے پر متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔

منگل کو بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر پر جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے، صرف چاغی میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شروع ہو چکی ہے، ریکوڈک جیسے منصوبے کا 50 فیصد منافع براہِ راست بلوچستان کو ملے گا، دہشت گردوں کا اصل مقصد اس ترقی کو روکنا اور ہمارے سٹریٹجک پارٹنر چین کو سی پیک سے دور کرنا ہے۔وزیر مملکت نے اپوزیشن اور قوم پرست جماعتوں کے محرومی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا فی کس حصہ پنجاب سے 40 فیصد زیادہ ہے، وفاقی پی ایس ڈی پی میں سب سے بڑا حصہ بلوچستان کا رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قیامِ پاکستان کے وقت صرف 114 سکول تھے، آج 15600 سے زائد ہیں، تب ایک بھی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج نہیں تھا، آج 12 یونیورسٹیز اور 5 میڈیکل کالجز ہیں، پورے پاکستان میں سب سے زیادہ 13 کیڈٹ کالجزبلوچستان میں ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ حقوق کی جنگ ہے تو دہشت گرد عام آدمی کی سہولت کے لئے بنے ہوئے سکولوں، ہسپتالوں، بینکوں، ریلوے اور ہائی ویز کو کیوں نشانہ بناتے ہیں؟ یہ حقوق کی جنگ نہیں بلکہ حقوق پر ڈاکہ ہے۔لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاپتہ افراد کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے اور کمیشن کے پاس 2500 سے بھی کم کیسزہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ خود جرائم کی وجہ سے روپوش ہو کر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں اور اسے مسنگ پرسنز کا نام دے کر ریاست کو بدنام کیا جاتا ہے۔اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اس وقت کوئٹہ کی گلیوں میں موجود تھے جب آپریشن چل رہا تھا، انہوں نے فرنٹ لائن پر جا کر فورسز کی حوصلہ افزائی کی۔جعفر ایکسپریس جیسے المناک واقعہ کے فوراً بعد وزیراعظم اور عسکری قیادت کوئٹہ پہنچی، تمام سیاسی قیادت کو ان کیمرہ بریفنگ دی گئی اور سب کو اعتماد میں لیا گیا۔طلال چوہدری نے کہا کہ ریاست اپنی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس قومی مسئلے پر متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں