حلیم عادل شیخ 23

بلدیات، صحت، آبپاشی اور تعلیم سمیت اہم محکموں میں اربوں روپے کی کرپشن سامنے آگئی ہے، حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے سندھ کی آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 2024-25 پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں 908 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سندھ کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 17 برس سے اقتدار میں موجود پیپلزپارٹی کی حکمرانی اس آڈٹ رپورٹ کے بعد مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ محکمہ بلدیات میں 210 ارب روپے کے مشکوک ٹھیکوں اور زائد ادائیگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس محکمے کو پیپلز پارٹی نے پارٹی فنڈ سمجھ کر استعمال کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری وسائل کو منظم انداز میں لوٹا گیا اور ترقیاتی منصوبوں کو کمیشن کے عوض تقسیم کیا جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں 95 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جبکہ ادویات کی خریداری کو بھی مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ٹھیکے دے کر کرپشن کی جارہی ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ آبپاشی میں 130 ارب روپے کے آڈٹ اعتراضات اور نامکمل اسکیموں کی مکمل ادائیگیاں بدانتظامی کی بدترین مثال ہیں۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم میں 75 ارب روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں اور گھوسٹ اسکولز کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 78 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ کاغذوں میں اربوں روپے خرچ دکھائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ورکس اینڈ سروسز میں 160 ارب روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئی ہیں، جو ترقیاتی کاموں میں وسیع پیمانے پر کمیشن خوری کی عکاسی کرتی ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ توانائی اور خودمختار اداروں میں 120 ارب روپے کے مالی معاملات مشکوک قرار دیے گئے ہیں اور سولر سسٹم کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی گئی۔

دیگر محکموں میں بھی اربوں روپے کے آڈٹ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب چند سو آڈٹ یونٹس میں 908 ارب روپے کے اعتراضات سامنے آئے ہیں تو مکمل آڈٹ ہونے پر کیا صورتحال ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں مگر سرکاری کاغذات میں اربوں روپے خرچ دکھائے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی ادائیگیاں، ریکارڈ کی عدم دستیابی، سبسڈی اور واجبات کی عدم وصولی ناقابل قبول ہے۔ ادھورے منصوبوں کی مکمل ادائیگیاں عوام کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پبلک اکانٹس کمیٹی کی کارروائی عوام کے سامنے لائی جائے یہ کمییٹی بھی پیپلزپارٹی کے پاس ہے اور ذمہ دار افسران و وزرا کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کی 17 سالہ کارکردگی پر جلد وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا اور عوام کے ٹیکس کے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن اور بدانتظامی نے سندھ کو تباہ کر دیا ہے اور اب جوابدہی ناگزیر ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی سندھ عوام کے حقوق کی جنگ ہر فورم پر لڑتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں