لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بسنت منا نا درحقیقت انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ، بسنت ایک خونی کھیل بن چکا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت نے انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس خطرناک کھیل کے نتیجے میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن لینے کے بجائے دوبارہ وہی غلطی دہرانے پر تُلی ہوئی ہے۔محمد جاوید قصوری نے اپنے بیان میں کہا کہ تین روزہ بسنت کے انعقاد سے نہ صرف شہری زندگی مفلوج ہو جائے گی بلکہ کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ دیہاڑی دار طبقہ اور محنت کش پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، ایسے میں شہر کو تین دن کے لیے بند کر دینا غریب دشمن اقدام ہے۔ مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا، جبکہ لوگوں کے پاس پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے پیسے نہیں ہیں۔
ایسے حالات میں حکومت کا یہ فیصلہ عوام دشمنی کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بسنت کے نام پر شہر میں لاقانونیت، ہلڑ بازی اور خونی ڈور کا استعمال عام ہو جاتا ہے جس سے معصوم شہریوں، بچوں اور موٹر سائیکل سواروں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ماضی کے تلخ تجربات ہمارے سامنے ہیں، مگر افسوس کہ حکومت ان حقائق کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تین روزہ بسنت سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے، جبکہ پہلے ہی معاشی حالات انتہائی خراب ہیں۔پورے شہر کی پولیس فورس کو اس کی نگرانی پر لگا دیا گیا ہے ۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ چند سہیلیوں کی مشاورت کے بعد پورے صوبے کو چلا رہی ہیں۔ عوامی مسائل، امن و امان اور معاشی بدحالی پر توجہ دینے کے بجائے ایسے غیر سنجیدہ فیصلے کیے جا رہے ہیں جن کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کسی بھی جانی نقصان کی صورت میں وزیراعلیٰ پنجاب براہ راست ذمہ دار ہوں گی۔









