شہباز اکمل جندران۔۔۔
ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ڈیپارٹمنٹ نے 2014 میں انباکس ٹیکنالوجی نامی فرم کے ساتھ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اوررکشے کی 80لاکھ نمبر پلیٹس کے حصول معاہدہ کیا۔تین سالہ معاہدے کے دوران انباکس ٹیکنالوجی نے ڈیپارٹمنٹ کو موٹر کاروں کی نمبر پلیٹس کے 10لاکھ جوڑے، کمرشل گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کے بھی 10لاکھ جوڑے، موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹس کے 9 لاکھ 50 ہزار جوڑے اور آٹو رکشہ کی نمبر پلیٹس کے ایک لاکھ جوڑے فراہم کرنا تھے۔

کار کی نمبر پلیٹس کے لئے فی جوڑا ریٹ 966 روپے، کمرشل گاڑیوں کی فی جوڑا نمبر پلیٹس پر بھی ریٹ 966 روپے، موٹر سائیکل کی فی جوڑا نمبر پلیٹس کا ریٹ 611روپے جبکہ آٹو رکشے کی نمبر پلیٹس کے لئے فی جوڑا ریٹ 646 روپے مقرر کیا گیا۔
اس معاہدے کے تحت انباکس ٹیکنالوجی کو نمبر پلیٹس کے خام مال کی سٹوریج اور تیاری کے لیئے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل میں مفت جگہ مہیا کی گئی۔

تاہم انباکس ٹیکنالوجی نے وئیر ہاوس چارجزکے نام پر ہر نمبر پلیٹ کے عوض محکمے سے 20فیصداضافی رقم وصول کی۔
یوں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے اپنی ہی عمارت پر تین برسوں کے دوران ایک ارب 2 کروڑ اور 35 لاکھ روپے سے زائد ادائیگی کی۔
ڈیپارٹمنٹ نے موٹر کاروں کی 20لاکھ نمبر پلیٹس کے عوض عمارت کے کرائے کی مد میں 38 کروڑ 40لاکھ روپے ادا کئے۔
اسی طرح ڈیپارٹمنٹ نے کمرشل گاڑیوں کی 20لاکھ نمبر پلیٹس کے عوض بھی عمارت کے کرائے کی مد میں 38 کروڑ 40لاکھ روپے ادا کئے۔

ڈیپارٹمنٹ نے موٹر سائیکلوں کی 19 لاکھ نمبر پلیٹس کے عوض عمارت کے کرائے کی مد میں مجموعی طورپر 22 کروڑ 99 لاکھ روپے سے زائد ادائیگی کی۔
جبکہ ڈیپارٹمنٹ نے اسی عرصے کےدوران آٹو رکشے کے 2 لاکھ نمبر پلیٹس کے عوض عمارت کے کرائے کی مد میں مجموعی طورپر 2 کروڑ 56لاکھ روپے اداکیئے۔
اس سلسلے میں ڈیپارٹمنٹ کا موقف جاننے کے لئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب راو شکیل الرحمن سے رابطہ کیا گیا۔لیکن وہ موقف دینے اے کتراتےرہے۔
معلوم ہوا ہے کہ اے ڈی جی راو شکیل الرحمن موجودہ عہدے سے خوش نہیں ہیں اور دوبارہ ریجن بی لاہور میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تعیناتی کے لئے کوششیں کررہے ہیں









