ایکسائز ڈیپارٹمنٹ 128

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں بڑے سکینڈل کا خدشہ۔ 14 لاکھ گاڑیوں کا ڈیٹا سکین نہ ہوسکا۔

شہباز اکمل جندران۔۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو ایک اور بڑے سکینڈل کا خطرہ درپیش ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں محکمے کے فیلڈ دفاتر میں نئی اور پہلے سے رجسٹرڈ گاڑیوں کی تبدیلی ملکیت کے وقت دستاویزات کی سکیننگ کا عمل بند ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
یہ عمل اے ہیمپسن نامی کمپنی کے ساتھ محکمے کا سکیننگ کا معاہدہ ختم ہونے کے باعث بند ہوا ہے۔

دستاویزات کی سکیننگ کا عمل بند ہونے سے جعلسازوں کے متحرک ہونے اور گاڑیوں کی رجسٹریشن و ٹرانزکشن کے دوران جعلسازی کے امکانات پہلے کی نسبت بڑھ گئے ہیں۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
ذرائع کے مطابق گاڑیوں کی دستاویزات سکین نہ ہونے کا سب سے زیادہ سامنا لاہور ریجن سی کو ہے جہاں رانا انتخاب حسین ڈائیریکٹر ہیں۔ لاہور میں 16 جنوری 2023 تک 3 لاکھ 89 ہزار گاڑیوں کی دستاویزات سکین نہیں کی جاسکیں اور کسی بھی جعلسازی کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ
اسی طرح دوسرے نمبر پر فیصل آباد کا نام آتا ہے جہاں شاہد گیلانی ڈائیریکٹر ہیں فیصل آباد میں ایک لاکھ 7 ہزار گاڑیوں کی دستاویزات سکین کی منتظر ہیں۔

اسی طرح گوجرانوالہ میں 71 ہزار، سیالکوٹ 70 ہزار، ملتان میں 62 ہزار، ڈی جی خان میں 54، رحیم یار خان میں 52 ہزار، گجرات میں 44 ہزار، راولپنڈی میں 42 ہزار، بہاولپور میں 39 ہزار، بہاولنگر میں بھی 39 ہزار، ساہیوال میں 33 ہزار،
سرگودھا میں 32 ہزار، وہاڑی میں 29 ہزار، جھنگ میں 28 ہزار، مظفر گڑھ میں 25 ہزار، خانیوال میں 25 ہزار، جہلم میں 23 ہزار، اوکاڑہ میں 23 ہزار، خوشاب میں 21 ہزار، چنیوٹ میں 20 ہزار، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 19 ہزار، لیہ میں 17 ہزار، میانوالی میں 16 ہزار، راجن پور میں 15 ہزار، لودھراں میں 15 ہزار، منڈی بہاوالدین، چکوال، نارووال اور پاکپتن میں فی کس 14 ہزار، حافظ آباد میں 13 ہزار، اٹک میں 10 ہزار، بھکر میں 10 ہزار، شیخوپورہ میں 9 ہزار، قصور میں 8 ہزار اور ننکانہ صاحب میں 7 ہزار گاڑیوں کی دستاویزات کی سکیننگ نہیں کی گئی۔

واضح رہے سال 2020 میں میں اینٹی کرپشن لاہور ریجن نے محض 4 ہزار 3 سو گاڑیوں کی دستاویزات سکین نہ ہونے پر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے 5 ڈائیریکٹروں اور 2 ای ٹی اوز سمیت 16 ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں