شہباز اکمل جندران۔
ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے فیصل آباد ڈائریکٹوریٹ میں بڑی جعلسازی بے نقاب ہوگئی ہے۔
یکم جنوری 2019 سے تاحال فیصل آباد موٹر برانچ میں 2ہزار سے زائد گاڑیوں کے کوائف ان فیڈ ڈیٹا کی آڑ میں درج کیئے گئے جبکہ مبینہ طورپر ان میں سے زیادہ تر گاڑیوں کے کوائف بوگس اور جعلی تھے۔

ڈائریکٹر فیصل آباد احمد سعید نے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد علی نوید کو انکوائری کا حکم دیدیا۔
بتایا گیا ہے کہ فیصل آباد موٹر برانچ میں تعینات ایم ٹی سی ساجد گجر، نجم شاہ، بلال ارشد، صابر سیال، شریف کاٹھیا، محمد بلال،افتخار پنسوتہ، مہر ظہور احمد، حافظ حنیف، انسپکٹر ضیغم، ڈی پی او عمران خان و دیگر نے یکم جنوری 2019 سے تاحال 2 ہزار گاڑیاں ان فیڈ ڈیٹا کے خلاف فیڈ کیں۔ اور مبینہ طور پر متعدد گاڑیوں کی کلاس چینج کی، متعدد گاڑیوں کی جگہ نان کسٹم اور سمگلڈ گاڑیوں کے کوائف فیڈ کئے۔متعدد گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس بوگس طریقے سے اپ ڈیٹ کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اور متعدد چھوٹی گاڑیوں کی دستاویزات پر بڑی گاڑیوں کے کوائف فیڈ کر دیئے۔

ذرائع کے مطابق موٹر برانچ فیصل آباد میں ایم ٹی سی ساجد گجر، افتخار پنسوتہ، مہر ظہور، حافظ حنیف، نجم شاہ وغیرہ کچھ عرصہ قبل بھی ان جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ اور ڈائریکٹر ایکسائز فیصل آباد احمد سعید کے حکم پر انہیں حال ہی میں چارج شیٹ کر دیا گیا ہے۔

تاہم جعلسازی کا یہ عمل صرف 40 گاڑیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ تعدادقریب 2 ہزار گاڑیوں تک جاپہنچی ہے۔

ذرائع کے مطابق موٹر برانچ فیصل آباد میں انٹرنل آڈٹ کی ذمہ داری اے ای ٹی او الطاف چیمہ کے فرائض میں شامل ہے۔لیکن موٹر برانچ میں لمبے عرصے سے متعین رہنے والے الطاف چیمہ متذکرہ اہلکاروں سے دوستانہ تعلقات رکھنے کی وجہ سے ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا آڈٹ سے گریز کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ قریب 2 ہزار گاڑیوں کی فیڈنگ میں ہو نے والی بے ضابطگیاں ان کی نظروں سے اوجھل رہیں۔

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈائیریکٹر ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد احمد سعید کا کہنا ہے کہ کسی بھی جعلساز کو نہیں بخشا جائیگا۔ ان کاکہنا تھا کہ محمدعلی نوید کو معاملے کی انکوائری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔اور قصوروار ثابت ہونے پر متعلقہ اہکار کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائیگی۔
احمد سعید کا مزید کہنا تھا کہ متذکرہ 6 اہکاروں کو 40 ان فیڈ گاڑیوں کی فیڈنگ کی آڑ میں کرپشن اور جعلسازی کے الزام میں حال ہی میں چارج شیٹ کر دیا گیا ہے اور صارج شیٹ کی فائل ڈائیریکٹر ہیڈ کوآرٹر کی ٹیبل پر ہے۔









