شہبازاکمل جندران۔
ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں بائیومیٹرک ویری فکشن سکپ کرتے ہوئے گاڑیوں کی تبدیلی ملکیت کا سکینڈل، محکمے کے ڈائیریکٹر جنرل محمد علی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ محمد علی، کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی ری ویمپنگ کے بعد ستمبر 2023 سے ڈیپارٹمنٹ کے آئی ٹی سے متعلقہ معاملات کو چلانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
فیلڈ فارمیشنز کے باربار مطلع کرنے کے باوجود ڈی جی ایکسائز ری ویپمڈ سسٹم کو ٹریک پر نہ لاسکے۔
ذرائع، الزام عائد کرتے ہیں کہ ڈی جی ایکسائز کو ایک ، دو، ڈائیریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور آئی ٹی سے متعلقہ بعض قریبی ملازمین سب اچھا کی رپورٹ دیتے رہے۔اور وہ فیلڈ فارمیشنز کی تحریری و زبانی شکایات کو سنجیدہ نہ لے پائے۔
اور اسی دوران ایک بڑا سکینڈل سامنے آگیا۔جس میں صرف ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد گاڑیوں کی ملکیت بوگس طریقے سے تبدیل کردی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلسازی کے اس عمل میں پی آئی ٹی بی کے کئی اور محکمہ ایکسائز کے بعض ملازم براہ راست اور بالواسطہ ملوث ہیں۔
اس سلسلے میں کمپیوٹر پروگرامر یونس اور محکمے کے ایک ڈائیریکٹر اور دو ڈی بی ایز کا نام لیا جارہا ہے۔جبکہ محکمے کے ایک سابقہ ملازم کا نام بھی زیر بحث ہے۔









