رکشوں کی بوگس فیڈنگ 245

ایک ہزاررکشوں کی بوگس فیڈنگ۔معطل اہلکار ہاتھ پاوں مارنے لگا۔رشوت اوردنبہ کڑاہی کی دعوتیں

رپورٹنگ آن لائن۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ لاہور کے جوہرٹاون آفس میں رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد آٹو رکشے بوگس کوائف کے تحت رجسٹرڈ کرنے کےالزام میں معطلی کا سامنا کرنے والے جونیئر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم مبینہ طور پر خود کو بچانے کے لیئے ہاتھ پاوں مارنا شروع کر دیئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ کاشف کلیم نے انکوائری افسروں کو اپروچ کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں۔
بوگس فیڈنگ

جبکہ ہیڈ آفس کے سسٹم اینالسٹ کی بادامی باغ میں شہر کی مشہور دنبہ کڑاہی سے تواضع کی۔ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ الزام علیہ نے کمپیوٹر کے ذریعے کئے جو جعلسازی کی ہے اسے ڈیلیٹ کروانے اور خود کو کلئیر کروانے کے لئے دعوت کے موقع پر سسٹم اینالسٹ کو بھاری رشوت کی آفر بھی دی ہے۔تاہم ذرائع کاکہنا ہے کہ ایک ہزار سے زائد آٹو رکشوں کی رجسٹریشن کے دوران کی گئی کمپیوٹرائزڈ جعلسازی کو درست کرنے کی کوشش کرنے والا خود پھنس جائیگا۔

بوگس فیڈنگ
اس سے قبل ڈائیریکٹر ریجن سی لاہور اور ڈائیریکٹر ریجن اے لاہور نے کاشف کلیم کو بچانے کی خاطر اس کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت جاری کی جانے والی چارج شیٹ میں ” ہاتھ ہلکا” رکھا اور ایک ہزار سے زائد آٹو رکشوں کی بوگس رجسٹریشن کی بجائے محض pendency کو چارج شیٹ کا موضوع بنایاتھا۔جس پر صوبائی حکومت نے دونوں ڈائیریکٹروں کے خلاف انکوائری بھی شروع کردی ہے۔

بوگس فیڈنگ
جے سی او کاشف کلیم پر الزام ہے کہ اس نے نے یکم جنوری 2022 سے 31 مئی 2022 تک محض پانچ ماہ کے دوران این او سی اور لائسنس نہ رکھنے والی مختلف کمپنیوں کے ایک ہزار سے زائد آٹو رکشے این او سی اور valid licence رکھنے والی آٹو رکشہ مینو فیکچرنگ کمپنی تیز رفتار(Tez Raftar) کے نام سے غیر قانونی طور پر رجسٹرڈ کردیئے ہیں۔جس سے ان ایک ہزار سے زائد آٹو رکشوں کی قانونی حیثیت ختم ہو کر رہ گئی یے کیونکہ رکشے کسی دوسری کمپنی نے تیار کئے ہیں جبکہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے کمپیوٹر ریکارڈ میں انہیں تیز رفتار کے نام سے فیڈ کیا گیا ہے۔جس سے عملی طورپر سادہ لوح غریب شہریوں کے یہ آٹو رکشے جعلی ہوگئے ہیں۔

بوگس فیڈنگ
یہی نہیں بلکہ ان آٹو رکشوں کی رجسٹریشن کے وقت کلاس بھی تبدیل کی گئی ہے۔جس سے قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے۔
یہ بھی الزام ہے کہ مذکورہ جونئیر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم نے VICS کی بجائے ان ایک ہزار آٹو رکشوں کے بوگس فزیکل فٹنس سرٹیفکیٹ بھی لف کئے ہیں۔جس سے پاسنگ کی مد میں بھی خزانے کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔
بوگس فیڈنگ
یہ بھی الزام ہے کہ Three Seater اور موٹر سائیکل کے طوپر رجسٹرڈ کیئے جانے والے ایک ہزار سے زائد آٹو رکشوں کی بڑی تعداد تھری سیٹرز کی بجائے Seven Seater ہے۔جن کی قانون کے مطابق رجسٹریشن ہو ہی نہیں سکتی۔لیکن مذکورہ جونئیر کمپیوٹر آپریٹر نے دھڑلے سے یہ غیر قانونی اور بوگس کارروائی کی ہے۔

اور متعلقہ کمپنیوں کے لائسنسوں اور این او سیز کی تجدید و اجرا کی مد میں وفاق و صوبائی اداروں کو موصول ہونے والے کروڑوں روپے کے ریونیو کا بھی نقصان کیا گیا ہے۔

جبکہ جعلسازی سامنے آنے پر متعلقہ ایم آر اے زاہد حسین نے جونئیر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے 3 یوم کے اندر جواب طلبی کر رکھی یے۔لیکن مذکورہ شخص اسے جواب دینے کو تیار نہیں ہے۔

ادھر ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ جونئیر کمپیوٹر آپریٹر کاشف کلیم نے فی کس آٹو رکشہ بوگس رجسٹریشن کے عوض 20 ہزار روپے رشوت موصول کی ہے۔ اور اس کے اس غیرقانونی عمل میں وہ افسروں کو بھی مبینہ طورپر حصہ دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جعلسازی کا علم ہونے کے باوجود کوئی بھی افسر اس کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں