اینٹی کرپشن 353

اینٹی کرپشن کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد۔ایکسائز انسپکٹر وحید میو کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

شہباز اکمل جندران۔۔۔

سینئر سول جج لاہور نے اینٹی کرپشن کی زیرحراست ایکسائز انسپکٹر عبدالوحید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔اس سے قبل عدالت نے اینٹی کرپشن حکام کو پابند کیا تھا کہ کہ آئیندہ کسی بھی ہتھکڑیوں میں جکڑے ملزم کی فوٹیج یا تصاویر رسمی یا سوشل میڈیا پر شئیر نہ کی جائیں۔
اینٹی کرپشن
عبدالوحید میو انسپکٹر ایکسائز ریجن سی کی طرف سے ایڈووکیٹ ملک خالد اور ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران نے عدالت کو بتایا کہ اینٹی کرپشن دو مرتبہ جسمانی ریمانڈ لینے کے باوجود ایک روپے کی کرپشن یا جعلسازی ثابت نہیں کرسکے۔نہ ہی ریکوری کی جاسکی ہے۔
شہباز اکمل جندران
پھر مزید ریمانڈ کیوں چاہیئے۔شہباز اکمل جندران نے عدالت کو بتایا کہ جن لگژری امپورٹڈ گاڑیوں کے نمبرز کی بنیاد پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کیا ہے۔ان میں سے ایک نمبر پراڈو، لینڈ کروزر کی بجائے چنگ چی رکشے کا ہے۔جو ایف آئی آر کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔
adv malik khalid
انہوں نے مزید کیا کہ ایف آئی آر بے بنیاد ہے۔ایف آئی آر میں راولپنڈی میں پہلے سے رجسٹرڈ گاڑیوں کی لاہور میں رجسٹریشن بیان کی گئی ہے۔جو کہ ناممکن ہے۔

شہباز اکمل جندران کی طرف سے عدالت کے روبرو بیان کیا گیا کہ عبدالوحید کو جوڈیشل آرڈر کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے جوکہ اینٹی کرپشن رولز کے خلاف ہے۔

شہباز اکمل جندران کی طرف سے عدالت کے روبرو مزید دلائل دیتے ہوئے کہا گیا کہ پی پی سی کے سیکشن 468 اور 471 کے تحت مقدمہ اسی صورت درج ہوسکتا ہے۔اگر ملزم سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کرتا ہے۔اور اگر جعلسازی کا ریکارڈ اینٹی کرپشن کے پاس موجود ہے تو پھر کس ریکارڈ کے ژصول کے لئے محکمے کو جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

عدالت نے انسپکٹر عبدالوحید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانےکا حکم جاری کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں