464

ایس او پیز کے بغیرہزاروں گاڑیوں کی غیر قانونی ٹرانسفر،سیکرٹری و ڈی جی ایکسائز کا بڑا بلنڈر

شہبازاکمل جندران۔۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے 10 جنوری 2022کو گاڑیوں کی ٹرانسفر، ٹرانزکشن کے لئے بائیومیٹرک تصدیق کا نظام نافذ کیا۔
تاہم بائیومیٹرک نظام متعارف کروانے کے ساتھ ڈیٹا انٹری آپریٹرز،(کی پنچ آپریٹرز، جونئیر کمپیوٹر آپریٹر) انسپکٹرز اور ایم آر ایز کے لئے کام کرنے کے حوالے سے SOP’s نوٹیفائیڈ نہیں کیئے گئے۔

صوبے میں اس وقت ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ڈیٹا انٹری آپریٹرز،(کی پنچ آپریٹرز، جونئیر کمپیوٹر آپریٹر) انسپکٹرز اور ایم آر ایز کے لئے 18 اکتوبر 2010 کے ایس او پیز نافذ ہیں جن کی رو سے تمام ڈیٹا انٹری آپریٹرز،(کی پنچ آپریٹرز، جونئیر کمپیوٹر آپریٹر) پابند ہیں کہ ٹرانسفر، ٹرانزکشن کے لئے آنے والی ہر گاڑی کے کاغذات کا بغور معائنہ کرکے گاڑی کی اصل فائل SEENکرے اور اس پر
ORIGINAL FILE SEEN
کی مہر لگائے۔

بعدازاں متعلقہ انسپکٹر اصل فائل کی انسپکشن کرے اور اس پر اپنے دستخط کرے پھرمتعلقہ ایم آر اے اصل کاغذات کی چیکنگ کرنے یے بعد ان کاغذات پر دستخط کرنے کا پابند ہوتا ہے اور اصل فائل گاڑی کے مالک کو واپس لوٹا دیتا ہے۔

تاہم 10 جنوری 2022 سے گاڑیوں کی ملکیت کی تبدیلی کے حوالے سے بائیومیٹرک نظام کے نفاذ کے بعد صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب وقاص علی محمود اور قائمقام ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز ڈیپارٹمنٹ پنجاب رضوان اکرم شیروانی کے زبانی احکامات پر لاہور سمیت دیگر شہروں میں گاڑیوں کی تبدیلی ملکیت کے وقت اصل فائل دیکھی جاتی ہے نہ ہی ڈیٹا انٹری آپریٹرز،(کی پنچ آپریٹرز، جونئیر کمپیوٹر آپریٹر) انسپکٹرز اور ایم آر ایز اصل فائل پر دستخط یا مہر لگاریے ہیں۔ جوکہ 18 اکتوبر 2010 کے ایس سو پیز کے نوٹیفکیشن ہے علاوہ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کی خلاف ورزی ہے

جس سے صوبے بھر میں موٹر برانچز میں کام کرنے والے ملازمین نہ صرف ذہنی کوفت اور پریشانی کا شکار ہیں بلکہ غیرقانونی عمل کا حصہ بننے کی وجہ سے ان ملازمین کی عزت بھی داو پر لگ چکی ہے۔

کیونکہ اب اس معاملے کا سلجھاو دونوں افسروں کے بس میں نہیں رہا۔کیو نکہ انہوں نے نوٹیفکیشن کے بغیر ہی 10 جنوری کے بعد گاڑیوں کی ٹرانسفر، ٹرانزکشن کو
PAPERLESS
کر دیا اور SOP’s یا نوٹیفکیشن کے بغیر ہی زبانی احکامات پر موٹرنگ سٹاف کو اپنا کام کرنے سے روک رکھا ہے۔

صوبائی سیکرٹری وقاص علی محمود اور قائمقام ڈائیریکٹر جنرل رضوان اکرم شیروانی کا یہ عمل ان کی ناکامی بھی تصور کیا جارہا یے۔اور امکان ظاہر کی جارہا ہے کہ جلد رضوان اکرم شیروانی کی جگہ مستقل ڈی جی اور وقاص علی محمود کی جگہ نیا سیکرٹری تعینات کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں