تہران (رپورٹنگ آن لائن)وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ایران نے مشرق وسطی کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک زیادہ معقول منصوبہ تجویز کیا ہے۔
اس سے قبل ایران نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا تھا جسے امریکہ نے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔ کیرولین لیوٹ نے انکشاف کیا کہ ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کر دے گا۔یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایران کی جانب سے شائع کردہ دس نکاتی جنگ بندی کا منصوبہ ان شرائط پر مشتمل نہیں ہے جن پر امریکہ نے جنگ روکنے کے لیے اتفاق کیا ہے۔
اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ میڈیا میں زیرِ گردش دستاویز اصل فریم ورک نہیں ہے۔اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نکات کا صرف ایک ہی مجموعہ ہے جسے امریکہ قبول کرتا ہے اور اس پر بند کمرہ اجلاسوں میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ٹرمپ نے اپنے “ٹروتھ سوشل” اکائونٹ پر لکھا کہ کئی معاہدے، فہرستیں اور خطوط ان لوگوں کی طرف سے بھیجے جا رہے ہیں جن کا امریکی-ایرانی مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، بہت سے معاملات میں وہ دھوکے باز اور جعلساز ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر ہیں۔ ہماری وفاقی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان نکات کو جلد بے نقاب کر دیا جائے گا۔
اہم نکات کا صرف ایک مجموعہ ہے جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہے اور ہم ان مذاکرات کے دوران بند کمرہ اجلاسوں میں ان پر بحث کریں گے۔ یہی وہ نکات ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔اس سے قبل وائٹ ہاس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبہ مزید مذاکرات کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ اور ایران نے ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے بدھ کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق 00:00 تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو ایران کے توانائی کے شعبے پر بڑے حملے کیے جائیں گے۔









