لاہور(رپورٹنگ آن لائن) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹربینک ٹرانزیکشنز پر عائد فیس فوری طور پر واپس لے کیونکہ اس سے کاروباری برادری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونگی۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر محمد ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ اس فیس سے کاروباری برادری ای بینکنگ کے بجائے نقد لین دین پر مجبور ہوگی ۔ لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ پچیس ہزار روپے سے زائد کی انٹربینک ٹرانزیکشنز پر 0.1فیصد چارجز عائد کردئیے گئے ہیں جن سے فائدے کے بجائے نقصان ہوگا اور کاروباری ماحول کو بھی نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری نے اس فیس کو قطعی طور پر مسترد کردیا ہے لیکن متعلقہ حکام زمینی حقائق کا ادراک کرنے کو تیار نہیں، اگرچہ ٹیکس نیٹ میں توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن اس کے لیے حکومت کو ایسے اقدامات اٹھانا ہونگے جن سے تاجروں کی حوصلہ افزائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انٹربینک ای ٹرانزیکشنز پر جبری ٹیکس نہ صرف تجارتی و معاشی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بنے گا بلکہ حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ نقد لین دین کا رحجان بڑھنے سے غیردستاویزی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا جو کسی طرح بھی ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔







