ٹرمپ 46

امریکی انٹیلی جنس سربراہ ایران بارے میں نرم رائے رکھتے ہیں ، ٹرمپ

واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا ایک مہینہ گزرنے کے بعد پہلی مرتبہ اس امر کا اشارہ دیا ہے کہ ان کے اور ان کی ٹیم کے بعض ارکان میں سوچ کا فرق پایا جاتا ہے۔

انہوں نے اس امر کا اظہار صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا امریکی انٹیلی جنس چیف تلسی گیبارڈ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں نسبتا نرم سوچ رکھتی ہیں۔صدر ٹرمپ جو اپنی گفتگو میں عام طور پر مثبت اور منفی دونوں باتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایران کے حوالے سے ڈیل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل جلد ہو سکتی ہے۔انہوں نے انٹیلی جنس چیف تلسی کے بارے میں ایک سوال پر بتایا کہ وہ صدر سے قدرے مختلف سوچ کی حامی ہیں کہ ایرانی جوہری پروگرام سے کیسے ڈیل کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص اس جنگ کے سلسلے میں خدمات انجام دینے کو دستیاب نہیں ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں اس بارے میں بہت مضبوط مقف کا حامی ہوں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔ کیونکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ فوری طور پر استعمال کرتے۔

لیکن تلسی گیبارڈ میرے خیال کے مطابق اس سلسلے میں ذرا نرم رویہ رکھتی ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے بارے میں اختلافات کی باتیں جنگ کے شروع سے ہی چل رہی ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ اس بارے میں کم ہی گفتگو کرتے ہیں اور ان کے نائب صدر جے ڈی وانس نے بھی جاری تنازعات پر انتہائی محتاط انداز اپنا رکھا ہے۔ وہ عام طور پر تنازعات کو ملک کے اندر اقتصادی و سیاسی قیمت کے زیادہ ادا کرنے کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے کئی دیگر حکام ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں متضاد بیانات دیتے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں