مولانا فضل الرحمان 50

امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے خطرات سے دوچار ہے ، مولانا فضل الرحمن

ڈیرہ اسماعیل خان(رپورٹنگ آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے خطرات سے دوچار ہے ،کیمونزم اور سرمایا دارنہ جمہوریت کی ناکامی کے بعد عالمی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ، پرانے سیاسی و اقتصادی نظاموں کی ٹوٹ پھوٹ نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے ،

عالمی سیاست کے تیزی سے تبدیل ہوتے تناظر میں پاکستان کی اجتماعی قومی قیادت کی بصیرت کی آزمائش شروع ہے ، ان حالات میں سیاسی تنازعات کو گہرا کرنے کی بجائے قومی ہم آہنگی کو بڑھانے کی ضرورت ہو گی۔ جاری اعلامیہ کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پچھلے دو سو سالوں میں ہمارے خطہ نے بادشاہتوں ، نوآبادیاتی جبریت ، جمہوریت اور کیمونزم سمیت بہت سے نظام ہائے سیاست کو آزمایا ،ان میں سے کسی نے بھی ارتکاز قوت کے سوا فلاح انسانیت کا فرض پورا نہیں کیا ، اس وقت دنیا کے تمام سیاسی نظام نوع انسانی کے دکھوں کا مداوا کرنے اور فلاحی معاشروں کے قیام کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ سترہویں صدی میں نسل انسانی کو بتایا گیا کہ تمام انسانی مسائل کا حل سائنس کی ترقی میں ہے تاہم سائنس کی ترقی نوع انسانی کی فلاح کی بجائے طاقت کے حصول کا ذریعہ اور خونریزی میں اضافہ کا سبب بنی ، بڑی طاقتوں نے ایٹم بم ، ہائٹروجن بم اور ایسی بے رحمی جنگی مشین تیار کر لی جس نے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ، ابھی حال ہی میں اسرائیل نے غزہ کی سویلین آبادی کو کیمائی ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر 80 ہزار سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیا۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے خطرات سے دوچار ہے یعنی سائنس نے انسانیت کو موت کی دہلیز تک پہنچا دیا۔

انہوںنے کہاکہ مغرب میں نشاة ثانیہ اور روش خیالی کی تحریکوں نے زندگی کی مقصدیت اور خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ،معرب کا مرد اداس ، عورت مغموم اور ہر انسان پرہجوم تنہائی کا شکار ہے ، دیار مغرب کے فلسفی اب زندگی کو مقصدیت سے ہم کنار کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انسان کو اپنے تجربات اور مشاہدہ سے سیکھنا چاہے ، ہمارے اہل دانش ، سیاستدان ،بیوروکریٹ اور فوجی قیادت اجتماعی دانش کو بروکار لا کر اپنے تاریخی شعور ، تہذیبی پس منظر اور سماجی اقدار کو سامنے رکھ کر عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسے شورائی نظام کو استوار کرنے کے لئے بحث کا آغاز کریں جو مغربی جمہوریت ، کیمونزم ، مذہبی آمریت اور بادشاہت کا قابل عمل متبادل اور فطری لچک کا حامل ہو۔

انہوںنے کہاکہ بلاشبہ ہم ایک ایسے فلاحی معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والا سیاسی سسٹم بنا سکتے ہیں ، جس میں عوام کے حق حاکمیت کا تحفظ اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کا اخلاقی میکنزم شامل ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں