اقوامِ متحدہ 137

اقوامِ متحدہ کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کی تفتیش پر اسرائیل برہم

تل ابیب/نیویارک( رپورٹنگ آن لائن)الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق غاصب اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم کی تفتیش کیے جانے پر اقوامِ متحدہ سے ناراض ہوگیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انکوائری کمیشن کی سربراہ ناوی پلئی نے اسرائیل حکومت کو بھیجے گئے خط میں کہا تھا کہ کمیشن کو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنا ہے جس کیلیے کمیشن کے عملے کو سفر کی اجازت دی جائے۔جس پر اسرائیل نے جواب دیا کہ وہ فلسطینیوں سے زیادتی کی تفتیش کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گا کیونکہ انسانی حقوق کونسل کے خصوصی کمیشن کا اسرائیل کے ساتھ رویہ تعصب پر مبنی ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر میرو ایلون شاہر کی طرف سے گزشتہ روز بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کونسل یا اس کا کمیشن آف انکوائری اسرائیل کے ساتھ غیرمعقول، غیرمنصفانہ اور امتیازی سلوک روا رکھیں گے۔

اقوام متحدہ کی سابق کمشنر برائے انسانی حقوق ناوی پلئی کو تصادم کے اسباب کی بنیادی وجوہات کی اعلی سطحی انکوائری کرنے والے کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اسرائیل نے ناوی پلئی کو بھیجے گئے خط میں ان پر اسرائیل مخالف ایجنڈا چلانے اور اسرائیل مخالف اقدامات کا الزام لگایا ہے۔ایلون شاہر نے خط میں کمیشن آف انکوائری پر اسرائیل کو شیطانی ریاست ظاہر کرنے کی کوششوں کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ بھارتی نژاد جنوبی افریقی سابق جج پلئی نے اسرائیل کو نسلی عصبیت رکھنے والی قوم قرار دینے کے عمل اور اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی قیادت میں عالمی بائیکاٹ کی تحریک (بی ڈی ایس)کی حمایت کی ہے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے گزشتہ سال غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ جنگ کے بعد مئی میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔ اس جنگ میں 260 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں