اسلام آباد ہائی کورٹ 21

اقدامِ قتل کیس میں عدالت کا بڑا فیصلہ، ملزم کی درخواستِ ضمانت خارج

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدامِ قتل کیس میں ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں اقدامِ قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ایک بڑا فیصلہ دیاجس میں کہا گیا کہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے، اس لیے ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔فیصلے میں بتایا گیا کہ دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملزم ضمانت کی رعایت کا حق دار نہیں ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم فواد پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے۔ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق مدعیہ کے بیٹے کو اس واقعے کے دوران 3 گولیاں لگیں ہیں اور دورانِ تفتیش ملزم سے وارادت میں استعمال پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ زخمیوں کو پہلے اسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے اور چند گھنٹوں کی تاخیر سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا، جبکہ پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد کے خلاف پہلے بھی 4 دیگر مقدمات درج ہیں۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی ہے اور ملزم ضمانت کا حق دار نہیں ہے، یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں، ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔جسٹس خادم حسین نے اقدامِ قتل کے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں