روئی کے بھاؤ 191

اسپنگ ملز کی خریداری میں اضافے کے باعث روئی کے بھاؤ میں 400 تا 500 روپے کا نمایاں اضافہ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز کی خریداری میں اضافے کے باعث روئی کے بھاؤ میں 400 تا 500 روپے کا نمایاں اضافہ ہوا دوسری جانب پھٹی کی رسد میں بھی اضافہ ہورہا ہے لیکن دن بدن نئی فیکٹریاں شروع ہونے کی وجہ سے ظاہری طور پر پھٹی کی رسد میں کمی نظر آتی ہے۔ روئی کے بھاؤ میں اضافہ کی وجہ سے پھٹی کا بھاؤ بھی بڑھتا جارہا ہے پھٹی کے بھاؤ میں فی 40 کلو 200 تا 300 روپے کا اضافہ ہوا۔ ٹیکسٹائل ملز کے ذرائع کے مطابق بیرون ممالک سے روئی کے درآمدی معاہدے کیے ہوئے ہیں لیکن شپمنٹ کی تاخیر کے سبب روئی کی ڈیلیوری 2 تا 3 مہینے بعد پہنچ رہی ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل کے بڑے گروپوں کو اپنی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے مارکیٹ سے روئی خریدنی پڑ رہی ہے روئی کے بھا ؤمیں اضافہ کی وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے۔دوسری جانب ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے بھی روئی کی درآمد نسبتا مہنگی ہونے کی وجہ سے شیپمنٹ کے ریٹ میں اضافہ اور تاخیر کے خدشے کے سبب کئی ملز جنہوں نے گزشتہ سال مقامی مارکیٹ سے بالکل بھی خریداری نہیں کی تھی وہ ملز بھی خریداری کر رہی ہے۔گو کہ اس سال موصولہ اطلاعات کے مطابق فی الحال روئی کی فصل تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔

گزشتہ بارشوں سے فصل کو تقویت ملی ہے۔ جبکہ گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال اب تک کپاس کی آمد بہتر کہی جاسکتی ہے بہرحال روئی کے بھاو میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز بیرون ممالک سے نسبتا اونچے داموں پر بھی روئی کے معاہدے کر رہے ہیں کیوں کہ اس سال بھی روئی کی پیداوار بہتر ہو کر بھی بمشکل 85 لاکھ گانٹھیں ہونے کی توقع ہے جبکہ نئی مشینری لگنے کے سبب روئی کی کھپت ایک کروڑ 70 تا 75 لاکھ گانٹھوں کی ہونے کی توقع کی جا رہی ہے اگر فصل تقریبا 85 لاکھ گانٹھوں کی بھی ہوتی ہے پھر بھی وافر مقدار میں روئی بیرون ممالک سے برآمد کرنی پڑے گی۔روئی کے نجی درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ روزانہ روئی کے درآمدی معاہدے ہو رہے ہیں فی الحال 5 تا 6 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کر لیے گئے ہیں۔صوبہ سندھ میں روئی کے بھاؤ میں 400 تا 500 روپے کا اضافہ ہو کر فی من 13300 تا 13500 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5200 تا 5800 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1650 تا 1750 روپے رہا صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 13350 تا 13800 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5200 تا 6300 روپے بنولہ کا بھا ؤفی من 1700 تا 1800 روپے رہا صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھا ؤفی من 13200 تا 13500 روپے پھٹی کا بھا فی 40 کلو 5600 تا 6300 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1800 تا 1900 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 400 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 13400 روپے کے بھا ؤپر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرزفورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طور پر اضافہ کا رجحان رہا۔ نیویارک کاٹن مارکیٹ میں وعدے کا بھاؤ فی پانڈ 89.50 تا 91.70 امریکن سینٹ رہا۔ جبکہ USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں گزشتہ ہفتے کے نسبت معمولی اضافہ رہا چین اور امریکہ کے مابین تجارتی تنازعہ کے باعث اس ہفتے بھی چین نے امریکہ سے روئی کی خریداری سے اجتناب کیا۔ گو کہ چین اپنے روئی کے پرانے اسٹاک کی روئی فروخت کر رہا ہے برازیل میں بارشوں کے سبب روئی کی فصل متاثر ہوئی ہے جس کے نسبت بھاؤ میں اضافہ رہا وسطی ایشیا کے ممالک اور افریقہ وغیرہ میں روئی کے بھا ؤمیں اضافہ رہا جبکہ بھارت میں روئی کے بھا ؤمیں ملا جلا رجحان رہا۔کاٹن کے تجزیہ کار نسیم عثمان نے بتایا کہ 2021/22 سیزن میں عالمی کپاس کی پیداوار میں بہتری کی توقع ہے۔ 2019/20 کے مقابلے میں 2020/21 میں 7 فیصد کی کمی کے بعد ، 2021/22 میں 3 فیصد بڑھ کر 25 ملین ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔اس پیداوار کی قیادت بھارت ، چین ، برازیل اور امریکہ کرے گا۔ 2021/22 میں ، امریکی کپاس کی پیداوار 22 فیصد زیادہ 3.8 ملین ٹن ہونے کا تخمینہ ہے۔ پیداوار میں اضافے کی وضاحت بنیادی طور پر کٹائی کے علاقے میں 27 فیصد اضافے سے 4.2 ملین ہیکٹر تک ہونے کی ہے۔

متوقع کٹائی کا علاقہ وبائی مرض سے پہلے کے موسموں کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ امریکی اوسط پیداوار 912 کلو گرام/ہیکٹر متوقع ہے ، جو دس سالہ اوسط 942 کلو گرام فی ہیکٹر سے کم ہے ۔پاکستان نے 2020/21 سیزن کے دوران اپنے کاشت شدہ علاقے اور پیداوار کی سطح میں زبردست کمی دکھائی۔ رقبہ 21 فیصد کم ہوکر 20 لاکھ ہیکٹر رہ گیا اور پیداوار 33 فیصد کم ہو کر 890،000 ٹن رہ گئی۔ یہ کمی بنیادی طور پر غیر یقینی موسمی حالات ، کیڑوں کے حملوں اور بہتر قیمتوں اور مسابقتی فصلوں کے لیے حکومتی تعاون کی وجہ سے تھی جس کی وجہ سے وہ دوسری فصلوں جیسے گنے اور مکئی کی طرف منتقل ہو گئے۔ پاکستان کی کپاس کی پیداوار 2021/22 کے سیزن میں اسی سطح پر رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کی گھریلو مانگ کی حمایت کے لیے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ملک بڑھتی ہوئی درآمدات پر انحصار کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں