لاہور(رپورٹنگ آن لائن )آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کاشرح سود کو بر قرار رکھنا مایوس کن فیصلہ ہے ،پاکستان میں شرح سود خطے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے معاشی سر گرمیاں عروج نہیں پکڑ رہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس و قت مارکیٹ میں سرمائے کی شدید قلت ہے اور کاروبار کے جو حالات ہیں ایسے میں کوئی بھی شخص موجودہ شرح کے ساتھ قرضہ نہیں لے گا ۔ رواں مالی سال کے مانیٹری پالیسیوں کے باقی ماندہ اجلاسوں میں شرح سود کو بتدریج کم کرکے سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے فیصلہ کن مانیٹری پالیسی کی ضرورت ہے اس کے بغیر کاروبار نہیں چل سکتا۔
اشرف بھٹی نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک میں مہنگائی اور شرح سود کے تناسب کو دیکھا جائے تو اسٹیٹ بینک کے فیصلوں پر سوال اٹھتا ہے ۔ ہمارے دو ہمسایہ ممالک میں مہنگائی بالترتیب 1.5 فیصد اور شرح سود 5.5 فیصد ،مہنگائی 8.3 فیصد اور شرح سود 10 فیصد ہے جبکہ پاکستان میںحکومتی اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح اور اسٹیٹ بینک کا مقرر کردہ شرح سود سب کے سامنے ہے ۔









