اسلام آباد ہائی کورٹ 79

اسلام آباد ہائی کورٹ کی پی آئی اے کے سابق سی ای او کے لین دین تنازعے سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی آئی اے کے سابق سی ای او مشرف رسول کے وقاص احمد اور سہیل علیم کے ساتھ لین دین تنازعے میں درج مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔

جمعہ کوجسٹس محسن اختر کیانی نے سابق چیف ایگزیکٹو افسر پی آئی اے مشرف رسول کا وقاص احمد، سہیل علیم کیساتھ لین دین کے تنازعے پر وقاص احمد اور سہیل علیم کیخلاف درج مقدمات خارج کرنے کے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ایف آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال کوئی حتمی فیصلہ جاری نہ کیا جائے کیونکہ سپریم کورٹ نے اسی معاملے میں ایک فیصلہ معطل کر رکھا ہے، اس لیے اسی کے مطابق آگے بڑھا جائے گا۔سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے کردار پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ پانچ جعلی مقدمے درج کرکے عورتوں اور بچیوں کو اغوا کرنا کون سا انصاف ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ پٹیشنر بھی صاف آدمی نہیں، جس نے 31کروڑ روپے کی جائیداد فروخت کی ہے،ماتحت پولیس اہلکاروں کے ساتھ سینئرز بھی مل جاتے ہیں یہ حیران کن ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ کہیں یہ کیس بھی آئینی عدالت کا تو نہیں بنتا؟ کیونکہ دنیا میں جہاں جہاں آئینی عدالت قائم ہے وہاں ابتدا میں دائرہ اختیار کا مسئلہ درپیش رہتا ہے،جب کیس مقرر ہوگا تو یہاں والے کہیں گے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے ، پھر جب آپ جائیں گے سپریم کورٹ تو وہ کہیں گے آئینی عدالت کا دائرہ کار ہے، نئی ترمیم کی روشنی میں وکلا اور ججز کو بھی ان معلومات کا فقدان ہے، نئی ترمیم کو سمجھنے اور عملدرآمد کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں