عطا اللہ تارڑ 61

اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی، عطا تارڑ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود نے 11 نومبر کو اسلام آباد کی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی منصوبہ بندی کی تھی،انٹیلی جنس بیورو اور سی سی ڈی نے حملے کے 4 ملزمان کو گرفتار کیا، دہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اور اسلام آباد تھے، سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کسی ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے، ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج پوری طرح الرٹ ہیں،تمام حقائق ہم نے قوم کے سامنے رکھے ہیں، یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی، شہریوں کی حفاظت کے لیے ہم تمام تر اقدامات کریں گے۔

منگل کو یہاں پریس کانفرنس کے دوران عطا تارڑ نے 4 سہولت کاروں کی کالعدم ٹی ٹی پی کمانڈرز کے ساتھ افغانستان میں ہونے والی رابطہ کاری کی تفصیلات بیان کیں۔تصاویر دکھاتے ہوئے انہوں نے ان کی شناخت خودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد زالی اور شاہ منیر کے طور پر کی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور انٹیلی جنس بیورو نے مشترکہ کارروائی میں واقعے کے 48 گھنٹوں کے اندر ان چاروں کو گرفتار کر لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللہ کے ذریعے اس حملے کی منصوبہ بندی کی، جن سے ساجد اللہ کی 2023، 2024 اور پھر اگست 2025 میں ملاقات ہوئی جب کہ داد اللہ اور ساجد اللہ ایک ایپ کے ذریعے رابطے میں رہے۔انہوںنے کہاکہ داد اللہ کی شناخت خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے رہائشی کے طور پر کی، اور بتایا کہ وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔انہوں نے ساجد اللہ کا ویڈیو بیان بھی چلایاجس میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے خودکش جیکٹ کا بندوبست کیا اور حملہ آور عثمان شنواری کو دھماکے کے مقام تک پہنچایا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ وہ نور ولی محسود کے کمانڈر داد اللہ کے ساتھ مل کر اس کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، ان کا ہدف راولپنڈی یا اسلام آباد میں ایسی کارروائی کرنا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ساجد اللہ نے 2015 میں کالعدم ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان میں مختلف ٹی ٹی پی تربیتی کیمپوں میں ٹریننگ حاصل کی جب کہ 2024 میں پڑوسی ملک کے شہر جلال آباد کا بھی دورہ کیا،2024 کے دورے کے دوران، ساجد اللہ نے داد اللہ سے اس خودکش حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے ملاقات کی اور واپسی پر دو مزید افراد کو بھرتی کیا، جو زالی اور خان تھے۔

عطا تارڑ نے کہاکہ اگست 2025 میں ساجد اللہ اور زالی دونوں ایک ساتھ افغانستان گئے، انہوں نے پہلے شگال ضلع میں کالعدم ٹی ٹی پی کے شدت پسند عبداللہ جان عرف ابو حمزہ سے ملاقات کی، جہاں وہ رات بھر ٹھہرے، پھر کابل کے ارزان قیمت محلے میں داد اللہ سے ملاقات کی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ داد اللہ نے انہیں نور ولی محسود کے احکامات پہنچائے کہ انہیں راولپنڈی یا اسلام آباد کے علاقوں میں خودکش حملہ کرنا ہے، پاکستان واپس آنے کے بعد، ساجد اللہ کی ملاقات شنواری سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبے ننگرہار کا رہائشی ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج پوری طرح الرٹ ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ تمام حقائق ہم نے قوم کے سامنے رکھے ہیں، یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی، شہریوں کی حفاظت کے لیے ہم تمام تر اقدامات کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں