مسرت جمشید چیمہ 17

ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ،عمران خان کا تو نا قابل تلافی نقصان ہو گیا ،ملک کو مزید نقصان سے بچایا جائے’ مسرت جمشید چیمہ

لاہور(رپورٹنگ آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ یہ ماننا ہوگا کہ بطور قوم ہم عمران خان جیسے لیڈر کے مستحق نہیں ،ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ،عمران خان کا تو نا قابل تلافی نقصان ہو گیا ہے لیکن ملک کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے عملی اقدامات کریں،اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہے وہ آ کر اپنی صفائی دیں ،

اگر انہوںنے نہیں کیا تو پھر کس نے کیا ،یہ بہت بڑے سوال ہیںاورعوام ان سوالوں کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے ،قرآن پاک لے کر آئیں میں حلف دوں گی عمران خان نے کبھی انتشار کی بات نہیںکی ، نو مئی کی منصوبہ بندی کی نہ اس پر کبھی کوئی بات ہوئی۔ انسدا ددہشتگردی عدالت کے باہر جمشید اقبال چیمہ اور وکلاء کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بطور پاکستانی شہری جو بنیادی حقوق ہیں ان کی گزشتہ چار ماہ سے بد ترین دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ،عمران خان ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں اور انہوں نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کی بات کی ۔

میںاڈیالہ جیل میں جاتی رہی ہوں جب بھی عمران خان سے ان کی صحت سے متعلق پوچھا تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا ،آج اگر بہنیں رو رہی ہیں تو صحیح رو رہی ہیں ۔ اگر عمران خان نے چار ماہ پہلے کہنا شروع کیا کہ انہیں ایک آنکھ سے نظر نہیں آرہا تو بیشک فیملی سے ملاقات نہ کراتے لیکن انہیں ڈاکٹر تک رسائی دینی چاہیے تھی ، دانستہ طور پر جان بوجھ کر جس طرح عمران خان کی ایک آنکھ کو ضائع کر دیا گیا اس کا جواب دینا پڑے گا ۔ہر کمیونٹی اپنی کمیونٹی کے لئے آواز اٹھاتی ہے لیکن پرویز رشید نے گزشتہ روز جس طرح کی بات کی اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے ، آپ یہ کہہ رہے ہیں کیا کر لیں گے، کرنے والے اللہ کی ذات ہوتی ہے ،جب مخلوق خدا اٹھتی ہے تو پھر ہیلی کاپٹر پر چڑھنے کا بھی وقت نہیں ملتا اور میرا یہ پیغام ہے ۔

آپ پتنگیں اڑا کر لوگوں سے ان کی دو وقت کی روٹی چھین کر فیشن شوز کر رہے ہیں۔ آٹھ فروری کی ہڑتال سے توجہ ہٹانے کے لئے آپ نے جو کچھ کیا ہے آپ کو اس پر شرم آنی چاہیے ۔ آپ اس ملک کے عوام کے ساتھ کھیلتے کھیلتے کہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس ملک کی آخری امید ہے ، لوگوں کی ان کے ساتھ سانسیں جڑی ہوئی ہیں،عوام کی نبض کودیکھیں ، ہم ساری رات زارو قطار روتے رہے ہیں کہ ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے ،ہماری مجبوریاں ہیں ،زبان بندی ہے لیکن خدا کا خوف کھائیں ۔ اس شخص نے اس ملک کو تین کینسر ہسپتال دئیے ہیں،یہ ماننا ہوگا کہ ہم بطور قوم عمران خان جیسے سیاسی لیڈر کے مستحق نہیں ،میں جب جب ان سے جیل میں ملتی تھی مجھے رونا آتا تھا ،ہماری قوم اس لیڈر کی مستحق نہیں تھی،ہم پر امن شہری ہیں ، جب بھی جیل میں عمران خان سے ملی ان کی طرف سے ایک ہی درس ہوتا تھا کہ جمہوری بات کرو۔

مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ قرآن پاک لے کر آئیں میں حلف دوں گی ، عمران خان نے کبھی انتشار کی بات نہیںکی ، جو نو مئی ہم پر تھونپا گیا ہے اور ہم آج بھی انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر کھڑے ہیں ، اس کی کبھی منصوبہ بندی نہیں کی،اس پر کبھی کوئی بات نہیں کی ،اگر کوئی ثبوت ہوتے تو اس وقت تک سامنے آ جاتے ۔ ہوش کے ناخن لیں ۔ہم ٹیکس پیئر ہونے اور ایک شہری کی حیثیت سے اپیل کرتے ہیں ایسا ہو کہ بہت دیر ہو جائے عمران خان کو علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں دیں جو قیدی کو سہولتیں ملنی چاہئیں وہ دی جائیں ، ان کو ان کے خاندان کو ان تک رسائی دی جائے ، ہم نے کلبھوشن یادو کو اس کے حقوق دئیے اور اسی وجہ سے پاکستان عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے سر خرو ہوا ، آج تمام انٹر نیشنل میڈیا ہیڈ لائنز بنا رہا ہے کہ سب سے مقبول ترین لیڈر ،مینڈیٹ لینے والے لیڈر اور ہیرو کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیںکر رہے ہیں ،ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ،عمران خان کا تو نا قابل تلافی نقصان ہو گیا ہے لیکن ملک کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔

اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہے وہ آ کر اپنی صفائی دیں ، اگر انہوںنے نہیں کیا تو پھر کس نے کیا ہے،وزیر جیل خانہ جات ، وزیر داخلہ بتائیں، اڈیالہ جیل پنجاب کے اندر آتی ہے ، جیلر سے پوچھیں اس نے عمران خان کے بار بار کہنے کے باوجود انہیں کیوں ہسپتال یا ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی یہ بہت بڑے سوال ہیںاورعوام ان سوالوں کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے ،عمران خان تو سرخرو ہو گئے ہیں عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں ،جب سے یہ خبر آئی ہے ہر ہر گھر میں ماتم تھا رونا تھا ، یہ قوم اتنی بزدل نہیں کہ اس معاملے کو ایسے ہی جانے دے گی ،اگر اب بھی کہیں عقل باقی ہے تو اس کو سمجھیں ،غور کریں ،ہوش کے ناخن لیں ۔جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ 1215سے پہلے یہ سنتے تھے کہ باغیوں کی ،مخالفین کی اور جن علاقوں کو فتح کیا جاتا وہاںکے بادشاہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی جاتی تھیں، یہ سنا ضرور تھا لیکن اس پر کبھی یقین نہیں آیا لیکن آج کے دور میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے،

عمران خان نہ ریاست کا مخالف ہے نہ ملک دشمن نہ باغی ہے بلکہ جمہوری روایات کا سب سے بڑا علمبردار ہے ،پاکستان کے آئین و قانون پر عملدرآمد کرنے والے شخص کو ذہنی وجسمانی ٹارچر کر کے اس کی آنکھ کو دانستہ ضائع کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ آپ پچیس کروڑ عوام کے دلوںمیں اپنی گنجائش کو ختم کرتے جارہے ہیں، اب ان کے دلوں میں آپ کے لئے کوئی جگہ نہیں ،آپ کے لئے سپیس اورعزت نہیں رہی ،آپ نے جمہوریت کے خلاف تو کام کر دیا اب آپ ذاتی دشمنی میں چلے گئے ہیں۔ سینٹ ،قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلیاں ،عدالتوں کے ہوتے ہوئے ایسا کام ہو جائے یہ بڑی عجیب بات ہے ،

اس کے اگلے نتائج سادہ نہیں ہوں گے کیونکہ چیزیں اب اتنی زیادہ سادہ نہیں رہیں،چیزوں کوسادگی سے باہر نکال رہے ہیں پیچیدہ کر رہے ہیں اور یہ کنٹرول نہیں ہوتیں اس کا متبادل نہیں رہتا،اب بھی اگر کسی کے پاس وژن ہے ،نیکی کا قطرہ ہے تو ان معاملات سے پیچھے ہٹ جائیں ،عمران خان کا حق ہے کہ ان کا علاج کیا جائے ان کو انصاف د یا جائے ،عمران خان سے جو کیا گیا ہے ان سے معافی مانگی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں