اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وزیرمملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ آگ ہمسائے میں لگے تو انگارے اپنے گھر آتے ہیں، پاکستان چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بنا، ہمارے ملک میں 460ڈرون حملے ہوئے، پاکستان معاشی حالات بہتر کر نے کےلئے سنٹرل ایشیائی ریاستوں تک پہنچنا چاہتا ہے، اس کا واحد راستہ افغانستان ہے، یہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے مفاد میں ہے، دنیا افغانستان سے بات کرے ہمیں افغانستان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔
جمعرات کو افغانستان کی تعمیر نو کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ طالبان افغانستان میں برسراقتدار تھے،ہزاروں کی تعداد میں طالبان نے جدید اسلحے سے لیس نیٹو افواج کی موجودگی میں حکومت بنالی، ہمیں احساس ہے کہ اگر آگ ہمسائے میں لگے تو انگارے اپنے گھر آتے ہیں، پاکستان چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بنا، ہمارے ملک میں 460ڈرون حملے ہوئے، مغربی سرحد پر حالات خراب ہوئے، دہشت گردی کا معاملہ ہمارے گلی محلوں میں پہنچا،پاکستان میں آئے روز دھماکے ہوتے تھے لیکن پاکستان نے دہشت گردی کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کرنا چاہتا ہے،معاشی حالات بہتر کر نے کےلئے سنٹرل ایشیائی ریاستوں تک پہنچنا چاہتا ہے، اس کا واحد راستہ افغانستان ہے، یہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے مفاد میں ہے، دنیا افغانستان سے بات کرے ہمیں افغانستان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے اگر وہاں ایسی حکومت آ ئے جس سے عوام اور دیگر ہمسائے ممالک کو خطرہ ہو تو یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے،
افغانستان سے انخلاءمیں پاکستان میں مثالی کردار ادا کر کے امن پسند ریاست ہونے کا ثبوت دیا، دنیا کو اسے تسلیم کرنا ہو گا افغانستان میں پاکستان کا کردار واضح ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈیڑھ سو ارب ڈالر کانقصان ہوا، امریکہ نے تین لاکھ افغان فوج کی تربیت کی جو کسی کام نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ افغانستان معاملے کے سیاسی حل اور تمام فریقین پر مشتمل جامع حکومت بنانے پر زور دیا ہے، دنیا نے افغانستان کو مشکلات میں چھوڑا تو اس نے منفی نتائج آئیں گے۔









