رپورٹنگ آن لائن۔۔
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ ریجن سی لاہور میں حساس ادارے کی نیلامی کی آڑ میں 8 ہزار گاڑیوں کی بوگس دستاویزات پر رجسٹریشن کا انکشاف سامنے آیا ہے جس سے قومی خزانے کو 16 ارب روہے سے زائد کا نقصان بتایا گیا ہے۔

بوگس دستاویزات پر گاڑیوں کی یہ رجسٹریشن مبینہ طور پر محکمہ ایکسائز کے افسران نے ملی بھگت کرکے کی۔

زرائع نے آگاہ کیا ہے کہ 8 ہزار گاڑیوں کی جعلی دستاویزات پر بوگس رجسٹریشن کی انکوائری قبل ازیں نیب نے کی اور جزوی انکوائری کے بعد نیب نے سیکرٹری ایکسائز کو خط لکھتے ہوئے مکمل انکوائری کرنے کو کہا۔
جس پر سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کو معاملے کی انکوائری کرنے کی ہدایات جاری کیں،جواب میں ڈی جی ایکسائز کی طرف سے ڈائیریکٹر ہیڈ کوآرٹر نے ڈائیریکٹر ریجن سی لاہور کو یہ انکوائری کرنے کو کہا حالانکہ ڈائیریکٹر ریجن سی اس انکوائری میں براہ راست ملزم تھا۔

یہ وجہ تھی کہ ملزم ڈائیریکٹر محمد آصف و دیگر نے اپنے خلاف انکوائری کرنے کی بجائے معاملہ دبا دیا۔
خدشہ بتایا گیا ہے کہ ڈائیریکٹر محمدآصف اپنے خلاف انکوائری میں بطور ڈائیریکٹر ریجن سی لاہور ریکارڈ پر اثرانداز ہوکر ثبوت ضائع کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق معاملے کی چھان بین کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے بھی سیکرٹری و ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب سے رپورٹ طلب کررکھی ہے۔









