لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن حامد خان نے کہا ہے کہ آئین کو 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قتل کیا گیا اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کی تدفین کی گئی،ان اسمبلیوں نے آئین میں ایسی ترامیم کیں جس کا وہ اختیار بھی نہیں رکھتی تھیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں پروفیشنل گروپ کی پریس کانفرنس کے دوران سینئر رہنما پی ٹی آئی حامد خان نے کہا کہ ایک ناجائز حکومت ہمارے سروں پر مسلط کی گئی، ان اسمبلیوں نے آئین میں ایسی ترامیم کیں جس کا وہ اختیار بھی نہیں رکھتی تھیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے بنائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ جو سیاسی طور پر آواز بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انکی زبان بندی ہو رہی ہے، ملک میں ایسا جبر اور زیادتی ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہماری دونوں بار ایسوسی ایشنز نے لیڈنگ رول پلے کیا، دوسرا گروپ اب حکومتی گروپ بن کر رہ گیا ہے اور یہ ترامیم لانے میں دوسرے گروپ کے لیڈران کا ہاتھ ہے۔ عدلیہ کے خلاف اقدامات پر مزاحمت کرنے کا بوجھ صرف پروفیشنل گروپ پر ہے، آنے والے منتخب صدور اس معاملے کو لے کر آگے چلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کوئی آئین و قانون نہیں رہ گیا، جب بھی آئینی سیٹ اپ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہمارے وکلا ہی آگے آئے، امید ہے کہ وکلا اسٹبلیشمنٹ کی بی ٹیم نہیں بنیں گے۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا صدر ہماری چوائس تھی لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اس طرح پیسے کا استعمال کرے گی۔حامد خان نے کہا کہ دعا ہے کہ نیا سال ہمارے لیے اچھا ثابت ہو، جو 2025یا اس سے پچھلے سال ہوا وہ ملک کے لیے بھیانک ترین سال تھے۔









