خواجہ سعد رفیق 13

آئین میں ہونے کے باوجود گورنر راج ، ایمر ایجنسی پسندیدہ عمل نہیں ‘سعد رفیق

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آئین میں ہونے کے باوجود گورنر راج یا ایمر ایجنسی پسندیدہ عمل نہیں لیکن بصد معذرت وفاق کو اس کی دعوت خود پی ٹی آئی کے جذباتی عناصر نے دی ہے ، گزشتہ چند برسوںسے تحریک انصاف زیر عتاب اور سخت آزمائش سے گزر رہی ہے ، ان کے رہنما اور سینکڑوںکارکناںجیلوں میں مقید ہیں ، ہم جیسے جمہوری جدوجہد رکھنے والے لوگ تمام تر سیاسی اختلاف کے باوجود اس صورتحال پر خوش نہیں ہو سکتے۔

سوشل میڈیا پر ”2014کے دھرنوں سے 2026کے گورنر راج تک ” تحریر میں سعد رفیق نے کہا کہ وطن ِ عزیز غربت ، نا انصافی اور دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں غیر ملکی مدد سے سرکاری املاک ، اہلکاروں، علماء ، عوام ، تعلیمی اداروں پر جگہ جگہ حملے جاری ہیں ، ملک کے بعض حصے حالت جنگ میں ہیں جس کے اثرات پورے معاشرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پی ٹی آئی بطور اپوزیشن سیاسی جماعت اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ، عوامی ایشوز پر سیاست کرتی اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لئے پر امن تحریک چلاتی جبکہ پختونخواہ کی حکومت صوبے کا نظم و نسق چلاتی اور سیاسی اختلاف رکھتے ہوئے وفاق پر دھاوے بولنے کی بجائے مل کر دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپناتی تاکہ نہ صرف دہشتگردی سے صوبے کی جان چھوٹتی بلکہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کیلئے آزادی کا راستہ بھی بنتا لیکن سب کچھ اسکے الٹ ہوا۔

خود پی ٹی آئی کے دانشمند عناصر کو بھی مشکوک قرار دے کر انہیںعمران خان اور دیگر اسیران کے لئے راستہ بنانے سے روک دیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ حکومت اپوزیشن مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی وفد کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا، انہوں نے بار بار ڈرافٹ میں ترامیم کروائیں ، سب کچھ طے کیا لیکن اپنے پیچھے موجود افراد کو قائل نہ کر سکے اور مذکرت ٹوٹ گئے ،لانگ مارچ موخر کیا جا سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا ،اسی طرح عمران خان سے پہلے ملاقات کروانے کا مطالبہ ایسا نہ تھا کہ اس پر عملدرآمد نہ ہو سکے ، حکومت کو یہ ملاقات کروا دینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کے سنجیدہ سیاسی و دانشور حلقے چاہتے ہیں کہ حکومت اپوزیشن مذاکرات نہ ٹوٹیں ، اپوزیشن کے جائز مطالبات مانے جائیں ، مذاکرات کے نتیجے میں گورنر راج کا فیصلہ واپس ہواور دہشتگردی کے خلاف جنگ مل کر لڑی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں