شوکت ترین 208

آئندہ چند ماہ میں مہنگائی کی شرح 50فیصد تک جاسکتی ہے، شوکت ترین

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن )سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ملک میں اس وقت 30سے 40فیصد تک مہنگائی کی شرح بڑی ہے ۔ اگلے چند ماہ میں یہ شرح 50فیصد تک جاسکتی ہے ،موجودہ حکومت نے سازش کرکے اقتدار حاصل کیا جس کامقصد اپنے کرپشن چھپانا اور نیب قوانین میں ترامیم کرنا تھا سابقہ ادوار میں بجلی کی کارخانوں کی مد میں ہمیں 850ارب روپے ادا کرنے پڑتے تھے ۔

ہمیں نالائقوں کا ٹولہ کہتے تھے لیکن یہ نالائقوں کی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کے دباو پر 32لارج مینوفیکچرنگ صنعتوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ کیا جس سے 13فیصد پیداوار کم ہوئی ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی نفاذ کی مدمیں 80ارب روپے اکٹھے کرنا جس سے عوام کی زندگی مزید اجیر ن ہوگی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا شوکت ترین نے کہا کہ ہمارے دور میں زراعت پر فوکس تھا جس کی بہترین رزلٹ برآمد ہورہے تھے اور زراعت میں جی ڈی پی کی شرح 5فیصد تک تھی ۔

گندم ، مکئی کے بعد اب پیاز بھمپر پیدوار ہوئی ہے ،لیکن اس کے باوجود حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے ، پیاز اسوقت 80روپے کلو کے حساب سے فروخت ہورہے ہیں اسی طرح ٹماٹر 120روپے، گرمیوں میں انڈے کون کھاتا ہے ،لیکن اس کے باوجود انڈوں کے ریٹ کم نہیں ہورہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں نالائقوں کا ٹولہ کہتے تھے لیکن یہ نالائقوں کی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں ، شوکت ترین نے کہا کہ اپریل تک ملک میں کوئی لوڈشیڈنگ نہیں تھی،لیکن انہوں نے تیل اور گیس درآمد کرنی تھی جو نہیں کی جس کی وجہ سے بجلی کا بحران پیدا ہوا وزیراعظم پہلے کہتے تھے کہ مئی میں لوڈشیڈنگ ختم ہوجائیگی لیکن اب کہتے ہیں کہ مزید لوڈشیڈنگ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ روس سے تیل اور گیس درآمد نہیں کررہے اور مختلف ہیلے بہانے کررہے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کا آقا ان سے ناراض نہ ہوجائے ۔ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دباو¿ پر 32لارج مینوفیکچرنگ صنعتوں پر سپر ٹیکس کا نفاذ کیا جس سے 13فیصد پیداوار کم ہوئی ہے اور ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھی گی ، ہم نے آئی ایم ایف سے کہا تھا کہ ٹیکس پر ٹیکس عائد نہیں کرینگے البتہ ٹیکس کا نفاذ کا دائرہ کار بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری پر ہمارا فوکس تھا موجودہ حکومت کی وجہ سے وہ صنعتیں بند ہورہی ہے ،تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی نفاذ کی مدمیں 80ارب روپے اکٹھے کرنا جس سے عوام کی زندگی مزید اجیر ن ہوگی ۔

اس حکومت کو کوئی پیسے دینے کو تیار نہیں ،پٹرول اور ڈیزل پبلک ٹرانسپورٹ ،زراعت کو متاثر کرتا ہے ، روزانہ اشیاءکی قیمتیں 30سے بچائیں 56فیصدتک بڑھ چکی ہیں،مڈل کلاس آدمی پہلے ادھار پر پیسے لیتا تھا کہ اپنی اخراجات کو پورا کرسکے ۔اب وہ قیمت ڈبل ہوچکی ہے ، اس وقت صنعتوں کے بندش کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہورہے ہیں اور غربت بڑھے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں