قمر زمان کائرہ 44

77میں بھٹو حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو آج پاکستان بے بسی کی تصویر نہ ہوتا ‘قمر زمان کائرہ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ 77میں بھٹو حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو آج پاکستان بے بسی کی تصویر نہ ہوتا ،بھٹو ضیاء کے ہاتھوں نہیں بلکہ عالمی سازش کے تحت شہید کیے گئے،بھٹو نے سب کو سمجھایا کہ عزت و غیرت سے جینا ہے تو متحد ہونا ہو گا،ماضی کو کھنگال کر ہمیں بھٹو کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے،پاکستان بننے سے 70 تک سماج تبدیل کرنے کا خواب ہی نہیں دیکھا گیا،جن لیڈروں کو خواب ہی نہ آئیں انہیں تعبیریں کیا ملیں گی؟

آج مضبوط دفاعی نظام ہے جسے بھٹو اور بی بی شہید نے مضبوط بنایا،یہ ملک کسی آمر کی جاگیر نہیں،اسے عوام کی طاقت کا سر چشمہ بنانا ہو گا،ہم آج بھی مفاہمت کی بات کر رہے ہیں جسکا بادشاہ ایوان صدر میں بیٹھا ہے،اسرائیل اور امریکہ دعائیں مانگنے سے تباہ نہیں ہوں گے لیکن ہم علم،سائنس،ہنر مندی سے انکا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز لائرز فورم پنجاب اور لاہور ہائیکورٹ کے زیر اہتمام قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے یوم شہادت پر کراچی شہداء ہال لاہور ہائیکورٹ میں”شہید کبھی مرا نہیں کرتے ”کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صدر پی ایل ایف راحیل کامران چیمہ،چودھری اسلم گل،عابد ساقی،اظہر ڈیال،ملک خرم کھوکھر،شکیل پاشا،عظیم حفیظ ،رانا عرفان،عثمان ملک، راجہ عامر، سید قمر عباس،راشد شریف،خرم رضا کھوکھر،راو خالد ایڈوکیٹ،میاں بشیر،لطیف ایاز،نسیم کشمیری،رانا صائم،ڈاکٹر ضرار یوسف،عارف خان،اغا تقی شاہ،عمران کھوکھر،عدنان کھوکھر،عمران پاشا،رانا ذوالفقار،اقرا عمر ایڈوکیٹ ،صبا شیخ،منشا پرنس سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بھٹو کے لئے بات کرتے ہوئے کبھی تشفی نہیں ہوئی،بڑے لیڈروں کی باتیں انکے جانے کے بعد یاد اور سامنے آتی ہیں، آج پاکستان اور دنیا میں انکے بدترین مخالف بھی اعتراف کرتے ہیں کہ بھٹو عظیم لیڈر تھے ، جو قومیں اپنے لیڈروں کو کھو دیتی ہیں،انہیں تاریخ سزا دیتی ہے، اس سزا کو اج پورا عالم اسلام بھگت رہا ہے۔بھٹو اور بی بی شہید کے جانے کے بعد آج تک پاکستان میں استحکام نہیں آسکا ،کوئی لیڈر ایسا نظر نہیں آ رہا جس پر قوم کو تسلی ہو ۔انہوں نے کہا کہ بھٹو نے 70کے الیکشن میںجب پاکستان کی قیادت سنبھالی، خزانہ خالی ،دشمن کے پاس 90ہزار قیدی تھے،بھٹو نے حکومت لی نہیں، دی گئی تھی، 26دسمبر 72 میں بھٹو نے بطور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ملک سنبھالا کیونکہ اس وقت ملک میں آئینی ڈھانچہ نہیں تھا اور نہ صدر کا عہدہ تھا۔

73 میں انہوں نے جو آئین دیا،آج وہی آئین ہماری یکجہتی کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملتان کانفرنس میں بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا، اس خواب کو پورا کرنے کیل ئے بھٹو نے 72 میں پاکستان کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملکی دفاع مضبوط کیا ہے،ہمارا دفاعی ادارے سے اختلاف صرف جمہوریت میں مداخلت پر ہے، ایچ ایم سی،سٹیل ملز سمیت کئی قومی اداروں کی بنیاد رکھی، بھٹو دور میں ریکارڈ میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیز قائم کیں، 71سے قبل عام آدمی کو پاکستان میں کارخانہ لگانے اور قرض نہیں ملتا تھا، بھٹو نے پاکستان کے دفاع اور انفرا سٹرکچر کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ایران ،لبنان اور غزہ پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔بھٹو نے او آئی سی کا اجلاس لاہور میں بلا یا جس میں تمام مسلم ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔ان حالات میں لاہور کے امراء کے گھر لیکر مہمانوں کو ٹھہرایا گیا۔

بھٹو نے سب کو سمجھایا کہ عزت و غیرت سے جینا ہے تو متحد ہونا ہو گا۔بھٹو نے اسلامی ممالک کو کہا کہ اپنے ادارے ،کرنسی اور دفاع کو مضبوط بنائیں ۔ بھٹو نے خارجہ پالیسی کو موثر بنایا اور وسائل لیکر ایٹمی پروگرام شروع کیا۔وسائل کی عدم موجودگی کے باوجود پاکستان کی جی ڈی پی میں اضافہ کیا۔بھٹو حکومت غربت کی شرح 50فیصد سے کم کر کے 30فیصد پر لائی ، لاکھوں پاکستانیوں کو مشرق وسطی بھیجا اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔پاکستان میں جتنی صنعتیں لگی ہوئی ہیں وہ بھٹو کی دین ہے۔بھٹو شہید نے پرمٹ پلاٹ کی سیاست ختم کی۔انہوں نے کہا کہ معاشی اور سیاسی طور پر بہت سے لوگ دعوے کریں گے ، بھٹو ضیاء کے ہاتھوں نہیں بلکہ عالمی سازش کے تحت شہید کیے گئے۔جب بھٹو پر پریشر آیا تو کہا گیا کہ پاکستان پر پابندیاں لگ جائیں گی ۔بھٹو ایٹم بم نہ بناتے تو کیا آج ہندوستان ہمیں جینے دیتا؟۔ہماری حکومت نے بڑی کامیابی سے موجودہ صورتحال میں پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جب جب پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے،مزدور کو کون تحفظ دیتا ہے؟، محکوم لوگوں کیلئے کسی اور جماعت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیوں شروع نہیں کیا؟، گھاٹا ہو یا فائدہ، حکومتوں کا کام روز گار دینا ہے۔کسانوں کو فصل کی اچھی قیمت اور سپورٹ پرائس ہمیشہ پیپلز پارٹی نے دی۔ہم نعرے نہیں لگاتے بلکہ یہ مزدور اور کسان کو سپورٹ فراہم کرنے کا خواب ہے ۔آج دوبارہ پبلک ٹرانسپورٹ شروع ہے جو بھٹو کاخواب تھا۔بھٹو نے تعلیم مفت نہ کی ہوتی تو کتنے لوگ پڑھ پاتے۔پرائیویٹ سکول نینشنلائز نہ ہوتے تو آج صورتحال یہ نہ ہوتی ۔بھٹو نے تعلیم مفت اور عام کی۔بھٹو کا سب سے بڑا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ لیڈر مستقبل پر نظر رکھتا ہے۔جمہوری ادارے جمہوریت نہیں لاتے،جمہوری سماج جمہوریت کو جنم دیتے ہیں۔ جمہوریت ہمارا اپنا خواب نہیںبلکہ یہ ہم نے دنیا سے ادھار لیا ہییاد رکھیں،پارلیمان بنا دیں،الیکشن کرا دیں،روز نئے نئے تجربے ہوتے ہیں، پاکستان بننے سے 70 تک سماج تبدیل کرنے کا خواب ہی نہیں دیکھا گیا۔بھٹو نے جاگیرداری اور سرداری نظام کا خاتمہ کر کے خواتین کو برابری کا حق دیا۔آج کی پاکستان میں تحریک پاکستان کے لوگ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔سرمایہ داروں نے سول ملٹری بیورو کریسی سے ملکر لوٹ مار کی۔

پاکستان کو سٹیٹس کو سے نکالنے کا خواب بھٹو نے دیکھا۔جن لیڈروں کو خواب ہی نہ آئیں انہیں تعبیریں کیا ملیں گی؟،جنہوں نے کچھ کرنا ہوتا ہے،ان کیلئے تھوڑا سا وقت بھی بہت ہوتا ہے۔آج مضبوط دفاعی نظام ہے جسے بھٹو اور بی بی شہید نے مضبوط بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کیساتھ فارم 45اور 47پہلی بار نہیں ہوا۔سارے سفر چھلانگیں لگا کر نہیں ،صبر سے طے ہوتے ہیں۔بھٹو کو شہید کرنے والا ضیاء تھا مگر اس نے اور نواز شریف نے ایٹمی پروگرام جاری رکھا۔ٹیسٹ تبھی ہوتی ہے جب کوئی چیز پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ نہ کرے کہ ایٹم بم چلانا پڑے تو جس پر رکھ کر چلانا ہے وہ میزائل پروگرام بی بی شہید نے دیا۔بی بی شہید نے سی ون 30میں جا کر میزائل پروگرام پاکستان لائیں۔ان شہادتوں پر ہمیں فخر ہے،ہمارے سر جھکے نہیں اٹھے ہوئے ہیں۔امریکہ کہتا ہے کہ ایٹمی طاقت میں اور اسرائیل ہوں تو ٹھیک ورنہ غلط ہے۔77میں بھٹو حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو آج پاکستان بے بسی کی تصویر نہ ہوتا ، امریکہ روز ہمارے بچوں کو مار رہا ہے،ایران کو تباہ کر کے کونسی جمہوریت کررہا ہے ، ہم آج بھی مفاہمت کی بات کر رہے ہیں جسکا بادشاہ ایوان صدر میں بیٹھا ہے۔

ماضی کو کھنگال کر ہمیں بھٹو کی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اسرائیل اور امریکہ ظلم کر رہے ہیں،یہ دعائیں مانگنے سے تباہی نہیں ہوں گے ، علم،سائنس،ہنر مندی سے ہم امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔سماج میں بتدریج تبدیلیاں آتی ہیں،نعرے لگانے والے اور کام کرنیوالے اور ہوتے ہیں۔یہی ہماری حقیقی بقای اور تبدیلی کا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ اکیلے اور حق و سچ پر ہوں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ، پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت تھی،ہے اور رہے گی ، بھٹو نے پسماندہ طبقات کو باعزت جینے کا حق دیا،بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔یہ ملک کسی آمر کی جاگیر نہیں،اسے عوام کی طاقت کا سر چشمہ بنانا ہو گا ۔سید قمر عباس نے بھٹو اور دیگر شہداء کے لئے دعا کرائی ۔تقریب سے صدر پی ایل ایف راحیل کامران چیمہ،سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار قاسم اعجاز سمرا،عاچد ساقی،عظیم حفیظ سیکرٹری اطلا عات پی ایل ایف پنجاب اور راشد شریف نے بھی خطاب کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں