لاہور( رپورٹنگ آن لائن) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک میں گورننس کی بہتری، عوامی مسائل کے حل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرانا ناگزیر ہیں،ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں گی جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے،
اگر یہ جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو آئندہ چند ہفتوں میں پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو سکتی ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ حالیہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں اور ایکسچینج ریٹ میں ردوبدل تھا،اس وقت پیٹرول پر تقریباً105 روپے جبکہ ڈیزل پر تقریباً100 روپے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔حکومت کے لیے سب سے آسان ٹیکس وہ ہے جو موٹر سائیکل چلانے والے عام آدمی پر لگایا جائے جبکہ بڑے زمینداروں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر، بڑے تاجروں اور طاقتور طبقوں پر موثر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا،حکومت اگر اپنے اخراجات کم کرے تو عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران پاکستان کی فی کس آمدنی میں کمی آئی، مہنگائی میں تقریباً 78 فیصد اضافہ ہوا، سرمایہ کاری کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پنجاب حکومت نے انفراسٹرکچر اور صفائی کے شعبے میں کچھ کام ضرور کیا ہے تاہم صحت، تعلیم اور پولیسنگ جیسے بنیادی شعبوں میں کارکردگی اطمینان بخش نہیں۔لاہور پر غیر متناسب وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ جنوبی اور مغربی پنجاب کے اضلاع ترقیاتی فنڈز سے محروم ہیں۔









