عطا تارڑ 3

27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بحث چل رہی ،حتمی بات کرنا قبل از وقت ہوگا ‘ عطا تارڑ

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بحث چل رہی ہے اس لئے کسی طرح کی حتمی بات کرنا قبل از وقت ہوگا اور قیاس آرائیوں سے بھی گریز کرنا چاہیے ،

پشاور کے کور کمانڈر ہائوس پر حملے کا شفاف ٹرائل ہونا چاہیے ،جب کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ آپ کس عہدے پر فائز ہیں ،اس کی آڑ میں چھپا نہیں جا سکتا کہ آپ وزیراعلیٰ ہیں، شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوی کیس کو8سال کا عرصہ گزر چکا ہے ،عمران نیازی اس کیس میں120بار التواء لے چکے ہیں ، ہمیں یقین ہے کہ اس کیس میں حق او رسچ کی فتح ہو گی اور عمران نیازی کو رسوائی ہوگی ،یہ پہلی بار نہیںہے کہ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں ۔

وزیراعظم شہباز شریف کے عمران خان کے خلاف دائر ہتک عزت کیس میںبیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جولائی 2017میں عمران احمد نیازی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا اور میری بطور گواہ اس میں پیشی تھی ۔ اس کیس کو آٹھ سال ہو گئے ہیں اور اس میں عمران نیازی نے 120بار التواء کی تاریخ لی ہے ۔ آج بھی ان کے وکیل مصروفیت کی بناء پر موجود نہیں تھے اور ہم نے درخواست کی کہ ہمارا بیان ریکارڈ کر لیا جائے اور جب وکیل ہوں تب جرح کر لی جائے ۔

2017میں عمران نیازی جنہیں الزام خان بھی کہتے ہیں نے الزما لگایا کہ شہباز شریف نے انہیں کہا ہے کہ وہ پانامہ پیپر کے کیس کو واپس لے لیں میں آپ کو 10ارب روپے دوں گا ، جس طر ح عمران نیازی نے اور بہت سے الزامات لگائے یہ بھی ان میں سے ایک تھا ،شہباز شریف نے اسی وقت عمران نیازی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جس میں اب خاصی پیشرفت ہو چکی ہے ،ہم نے حقائق عدالت کے سامنے رکھے ہیں کہ یہ الزام نہ صرف جھوٹابلکہ مضحکہ خیز ہے ،اسے مختلف جلسوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں بار بار دہرایا گیا بلکہ مہم چلائی گئی لیکن عمران نیازی اس بارے کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے ۔

میں نے عدالت میں کہا ہے کہ شہباز شریف کی عوامی خدمت کی ایک تاریخ ہے ، وہ 1988سے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو تے آرہے ہیں، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے ہیں،تین بار بار وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے ، انکی سیاسی اورسماجی خدمات ہیں ، وہ لاہور چیمبر کے صدر رہے ہیں، شہباز شریف ترقی اور عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اس کے لئے انہوں نے اپنا خون پسینہ دیا ہے لیکن ایک مجرم جو کرپشن کے کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہے وہ جھوٹے الزام لگاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں ہے ،

ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں جو عدالت میںپیش کر سکیں، ان کا بیان من گھڑت اورفریب پر مبنی تھا اور اس کے ذریعے عمران نیازی نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ، یہ جھوٹا الزام شہباز شریف کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لئے لگایا گیا ،ہم امید کرتے ہیں ہمیں اس کیس میں انصاف ملے گا ،عمران خان کے ٹولے کے ایک رکن کو بیرون ملک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ، وہ شخص افواج پاکستان پر الزام لگاتا تھا ،اسے نہ صرف ہرجانے کی سزا ہوئی بلکہ اس کو کہاگیا کہ وہ جھوٹاثابت ہوا ہے ،وہ ایک دہشتگرد احسان اللہ احسان کا انٹر ویو کرتا ہے ،کسی مہذب ملک میں دہشتگردی کی سپورٹ قانونی اوراخلاقی طورپر جائز نہیںسمجھتی جاتی ،

اس نے ایک دہشتگرد کے نظریات اور خیالات کو سوشل میڈیا پر فروغ دیا ، یہ بد ترین عمل ہے کوئی بھی مہذب ملک اس کو برداشت نہیں کرتا، اینٹی پاکستان ایجنڈا چلانے والے کو مات ہوئی ، اسے نہ صرف ہرجانہ دینا پڑا بلکہ مقدمے کے اخراجات دینے پڑے ، اسے خفت ہوئی ،اس کیس میں کیونکہ عمران نیازی کے پاس اپنے الزامات کا کوئی ثبوت نہیںہے ،یہ سرٹیفائیڈ جھوٹا ہے کرپشن کے کیس میںاندر ہے ،اس نے ہمیشہ جھوٹ ،منافقت اور الزام تراشی کی سیاست کی ہے ، اسے بھی اس کیس میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ، یہ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ پھر یوٹرن اور اب تو رائونڈ ابائوٹ بن گیا ہے ، ہمیں یقین ہے کہ اس کیس میں حق او رسچ کی فتح ہو گی۔

انہوںنے وزیراعلیٰ خیبر پختوانخواہ کے کور کمانڈر ہائوس پر حملے میں ملوث ہونے اور سز اکے حوالے سے کہا کہ جب کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ آپ کس عہدے پر فائز ہیں ،کور کمانڈر ہائوس جانے کی ویڈیوز خود لگائی گئیں ،اب دو ویڈیوز کے ذریعے کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، زمان پارک کی ویڈیو الگ ہے ،اس کا شفاف ٹرائل ہونا چاہیے اوردودھ کا دودھ اورپانی کا پانی سامنے آنا چاہیے ،اس کی آڑ میں چھپا نہیں جا سکتا کہ آپ وزیراعلیٰ ہیں، قانونی کارروائی بنتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کو چلنا چاہیے۔

انہوںنے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ بلاول بھٹو کے ٹوئٹ کے بعد میں نے اس پر بات ک ہے ،جو عدالتی پراسس ہیں انہیں مزید تقویت ملنی چاہییاوریہ واضح ہوں اور کوئی ابہام نہ رہے ،جو ترامیم زیر غور ہیں اس میں آئینی بنچ سے آئینی عدالت کی طرف مشاورت ، پاکستان کو بہت سارے سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں ،بہت سے پیچیدہ معاملا ت ہیں جن پر بحث چل رہی ہے اس لئے حتمی بات کرنا قبل از وقت ہوگا اورقیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے ۔انہوںنے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے کہا کہ ایک حکومت تھی جس نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا ،نواز شریف کے دور میںمہنگائی دیکھ لیں اس وقت یہ تین فیصد کی شرح پر تھی ،عمر ان خان کے دور میں یہ پچیس ہوئی ، پی ٹی آئی کے چار سالہ دو رمیں خارجہ پالیسی ناکام رہی ،

دوست ممالک کے سربراہان کو کہا گیا میں تمہاری ،ثقافت ،مذہب اور حالات کو تم سے بہتر جانتا ہوںاورٹانگ پر ٹانگ رکھ کر تضحیک کی گئی ،یہ کہا گیا کہ میں خود کشی کر لوں گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوں ،خود کشی تو نہ کی لیکن آئی ایم ایف کے پاس چلے گے اور ان کی شرائط پوری کیں ، اس وقت مہگائی اڑتیس فیصد تھی ، آج حکومت کی کاوشوں سے چار سے پانچ فیصد کے درمیان ہے ،پالیسی ریٹ بائیس سے گیارہ فیصد پر آیا ہے ،سٹاک مارکیٹ روز نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے،

پاکستان معاشی طو رپر آج اپنے پائوں پر کھڑا ہے ۔ سری لنکا ہمارا پڑوسی ملک ہے لیکن عمران خان کی جانب سے پاکستان کے سری لنکا بننے کی دعائیں کی گئیںاور کہا گیا کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے گا ۔ انہوںنے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مدد کی ہم نے جنگ جیتی ،عسکری فتح ملی ،دنیا میں پاکستان کو عزت ملی ، آج اکنامک معاہدے ہو رہے ہیں،سنٹرل ایشیاء ،چین ،سعودیہ اورامریکہ سمیت ہر ملک اکناک تعلقات بڑھانا چاہتا ہے ، سعودی عرب میںمعاشی تعاون کا فریم ورک لانچ ہوا ،اس سے براہ راست سرمایہ کاری بڑھے گی ،

تجارت بڑھے گی تو ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوگا ،میکرو اکنامک اشاریے سب کے سامنے ہیں،ورلڈ بینک وزیراعظم شہباز شریف کو کہہ رہا ہے کہ آپ کی ایف بی آ رکے لئے اصلاحات درست ہیں،آپ کی معیشت صحیح سمت میں گامزن ہیں ، فچ اور موڈی نے ریٹنگ بہتر کیں، آج مہنگائی نیچے ہے ،زر مبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح پر گئے ہیں ۔

انہوں نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کے سوال کے جواب میںکہاکہ ہم اختیارات دینے کے حامی ہیں، جو قانون بنایا گیا ہے اس کے لئے وزیر بلدیات نے وسیع مشاورت کی ہے ، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہونے جارہے ہیں ،یہ پہلے بھی ہوئے ہیں ،عدالت کے آرڈر موجود ہیں ،جو ابہام ہے وہ دور ہو جائے گا ،جلد انتخابات ہونے چاہیے اور موثر اس نظام میں عوام کی موثر نمائندگی ہونی چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں