لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو جمہوریت، پارلیمانی نظام اور آئینِ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی نفی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم نہ صرف عوامی حقوق اور شفاف حکمرانی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے ملک کیء اندر بداعتمادی اور طاقت کی کھینچا تانی میں مزید اضافہ ہوگا۔
یہ ترمیم ایسے وقت میں لائی گئی ہے جب ملک معاشی بحران، سیاسی انتشار اور ادارہ جاتی کمزور یوں کا شکار ہے، اس لیے ایسے اقدامات ملک کو استحکام دینے کے بجائے مزید غیر یقینی کی طرف دھکیل دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کو تیزی سے منظور کروانے کا عمل پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔ ملک پہلے ہی معاشی ابتری اور مہنگائی کے شدید دباؤ میں پسا ہوا ہے۔
لاکھوں نوجوان بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، کاروباری سرگرمیاں سکڑ رہی ہیں اور عوام اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسے حالات میں پارلیمنٹ کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہونی چاہیے تھی، مگر بدقسمتی سے نظام کو مستحکم کرنے کی بجائے ایسے آئینی تجربات کیے جا رہے ہیں جو عوامی اعتماد کو مزید مجروح کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں معاشی شرح نمو مسلسل کم ہو رہی ہے، افراطِ زر بلند ترین سطحوں پر ہے، جب کہ 40 فیصد سے زائد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی قوتیں اگر اسی طرح ایک دوسرے کو دیوار سے لگاتی رہیں گی تو نتیجہ قومی وحدت کی کمزوری اور عوام کے ریاستی اداروں سے اعتماد کے مکمل خاتمے کی صورت میں نکلے گا۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا حل آئین کی بالادستی، شفاف انتخابات، مضبوط مقامی حکومتوں کے قیام اور کرپشن سے پاک نظام میں ہے۔ جب تک حکمران طبقہ اپنی سوچ تبدیل نہیں کرتا، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے عوام کے ساتھ ہے اور ان کے حقوق اور آئین کی حفاظت کے لیے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔








