شامل کامنصوبہ 170

2025 تک 6 لاکھ الیکٹرک موٹر سائیکلوں ، رکشوں ،کاروں ،ٹرکوں کو نقل و حمل کے نظام میں شامل کامنصوبہ

لاہور( ر پورٹنگ آن لائن)ملک میں گرین پالیسی کا آغاز ہونے کے دو سال بعد پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اوراس کے تحت 2030 تک ملک بھر میں 30 فیصد الیکٹرک کار اور ٹرک اور 2040 تک 90 فیصد تک تبدیلی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات اور پاکستان میں کاروں کی تعمیر کے لیے پرزہ جات اور آلات کی درآمد دونوں کے لیے ٹیکس میں بھاری چھوٹ نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حکومت کے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے جنرل منیجر عاصم ایاز نے کہا ہے کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرک کاروں پر جنرل سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم ہو کر تقریباً صفر ہو گیا ہے۔

اسی وقت، درآمد شدہ الیکٹرک کاروں کے پرزہ جات جیسے بیٹریاں، کنٹرولرز اور انورٹرز پر کسٹم ڈیوٹی کم ہو کر ایک فیصد ہو گئی ہے۔عاصم ایاز نے بتایا کہ مکمل طور پر تیار شدہ الیکٹرک کاروں کی درآمد پر ڈیوٹی بھی ایک سال کے لیے 25 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کردی گئی ہے۔ٹیکس میں ریلیف پاکستان کی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کو لاگو کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے جسے اصل میں کابینہ نے نومبر 2019 میں منظور کیا تھا۔اس کا مقصد 2025 تک پانچ لاکھ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں اور ایک لاکھ الیکٹرک کاروں، وین اور چھوٹے ٹرکوں کو نقل و حمل کے نظام میں شامل کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں