لاہور( رپورٹنگ آن لائن)پاکستان میں موبائل فون کی مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کا شعبہ 2025 کے دوران مسلسل ترقی کرتا رہا اورتجارتی بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے موبائل فونز میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ انکشاف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار میں کیا گیا ہے۔پی ٹی اے کے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ اشاریوں کے مطابق 2025 میں پاکستان میں مقامی طور پر تیار اور اسمبل کیے گئے موبائل فونز کی تعداد 3 کروڑ 2 لاکھ 21 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ اسی عرصے میں تجارتی درآمدات کم ہو رک صرف 23 لاکھ 70 ہزار یونٹس رہ گئیں۔
یہ اعداد و شمار پاکستان کے موبائل فون شعبے میں درآمدات سے مقامی پیداوار کی جانب واضح اور فیصلہ کن منتقلی کی عکاسی کرتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کے ہینڈ سیٹ ایکو سسٹم میں نمایاں ساختی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ 2016 میں مقامی موبائل فون پیداوار صرف 2 لاکھ 90 ہزار یونٹس تھی جو 2017 میں 17 لاکھ 20 ہزار، 2018 میں 52 لاکھ اور 2019 میں بڑھ کر ایک کروڑ 17 لاکھ 40 ہزار یونٹس تک جا پہنچی۔ بعد ازاں 2020 میں پیداوار ایک کروڑ 30 لاکھ 50 ہزار اور 2021 میں دو کروڑ 46 لاکھ 60 ہزار یونٹس ریکارڈ کی گئی۔پی ٹی اے کے مطابق 2022 اور 2023 میں بھی مقامی مینوفیکچرنگ 2 کروڑ 10 لاکھ یونٹس سے زائد رہی جبکہ 2024 میں یہ ایک نئی بلند ترین سطح، یعنی 3 کروڑ 13 لاکھ 80 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی۔
اگرچہ 2025 میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم مجموعی پیداوار بدستور 3 کروڑ یونٹس سے اوپر رہی۔ اس کے برعکس، 2016 میں 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد رہنے والی موبائل فون درآمدات حالیہ برسوں میں تاریخی کم ترین سطح پر آ چکی ہیں۔یہ پیشرفت پاکستان کی درآمدی متبادل پالیسی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔ 2020 میں جہاں تجارتی درآمدات 2 کروڑ 40 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گئی تھیں وہیں مقامی پیداوار محض ایک کروڑ 30 لاکھ یونٹس کے قریب تھی۔ تاہم 2021 میں پہلی مرتبہ مقامی مینوفیکچرنگ نے درآمدات کو پیچھے چھوڑا، اور اس کے بعد یہ فرق مسلسل بڑھتا چلا گیا۔پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے موبائل فونز کے شعبے پر چینی برانڈز کو نمایاں برتری حاصل ہے۔
پی ٹی اے کی ٹاپ 10 برانڈز فہرست کے مطابق 2025 میں ٹرانسشن ہولڈنگز کا برانڈ انفنکس تقریباً 36 لاکھ 50 ہزار یونٹس کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ ویوو تقریباً 28 لاکھ یونٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا،آئی ٹیل، ٹیکنو اور شیامی کی ریڈمی سیریز بھی مقامی سطح پر اسمبل کیے جانے والے نمایاں برانڈز میں شامل رہیں۔مجموعی طور پر چینی کمپنیوں کا پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہونے والے اسمارٹ فونز میں بڑا حصہ ہے، جو ملک کی موبائل فون ویلیو چین میں ان کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق چینی برانڈز کی مضبوط موجودگی نے نہ صرف کم قیمت اسمارٹ فونز تک عوام کی رسائی کو بہتر بنایا ہے بلکہ پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا ہے۔
پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ، جو جون تک دستیاب ڈیٹا پر مبنی ہے، میں بتایا گیا ہے کہ 2025 تک پاکستانی نیٹ ورکس پر استعمال ہونے والے 95 فیصد سے زائد موبائل ڈیوائسز مقامی سطح پر تیار کیے جا چکے تھے جن میں 68 فیصد اسمارٹ فونز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو درجنوں مینوفیکچرنگ اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں، جس سے پاکستان موبائل فون اسمبلنگ کے ایک ابھرتے ہوئے علاقائی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔درآمدات میں کمی کے نتیجے میں نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دبا ئوکم ہوا ہے بلکہ اس تبدیلی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملا، اور موبائل فون مارکیٹ کو باضابطہ بنانے میں بھی مدد ملی، جس میں سخت رجسٹریشن اور نگرانی کے نظام نے اہم کردار ادا کیا۔









