لاہور(رپورٹنگ آن لائن ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ دہشتگرد افغانستان جاکرتربیت لے کر آیا ، سہولت کاروں اور ہینڈلرز کے حوالے سے کافی حد تک پیشرفت ہوئی ہے ،
بہت حد تک ان کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا ہے اوران کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا ،کسی صورت بھی شدت پسندی اوردہشتگردی کی روک تھام کے لئے قطعاًکوئی سقم نظر نہیں آئے گا ، ہم ان کو نکیل ڈالیں گے ،ان کا تعاقب کریں گے ،جو خوارج ہیں ان کے خاتمے میں ہی پاکستان کی بہتری اور بھلائی ہے ،افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے ہر سطح پر کلیئرٹی ہے،دہشتگردوں کی ہارڈ ٹارگٹ تک پہنچنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ مضافات اوردور درازعلاقوں میں سوفٹ ٹارگٹ تک پہنچا جائے ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ہمراہ ادارہ منہاج الحسین کے دورہ کے موقع پر علامہ محمد حسین اکبر سے اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ پر اظہار تعزیت کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مفتی ڈاکٹر انتخاب،مفتی محمد شاہد عبید،مولانا احسان الحق صدیقی، مولانا محمد اسلم دین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔وفاق وزیر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد میں جو واقعہ ہوا اس پر اظہار یکجہتی کے لئے یہاں آئے ہیں،جب لوگ جمعہ کے وقت اللہ کے حضور سر بسجود ہوں ان پر حملہ آور ہونے والوں کو مسلمان کہنا تو دور انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے ، جو دہشتگرد ہیں ان کا نہ تو دین ،مذہب ، رنگ اور نہ کوئی نسل ہے، ان کا ایک ہی نظریہ ہے کہ دہشت کو پھیلانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کی طرف سے وزیر اعظم کی طرف سے مکمل طور پر یقین دلاتا ہوں کہ مساجد ہوں،امام بارگاہیں ہوں بلکہ مذاہب کے جتنے بھی مراکز ان کی حفاظت کے لئے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی ۔ امام بارگاہوں میں سکیورٹی کا بہترین انتظام ہے ، ہم اسے مزید بہتر بنائیں گے۔ میری وزیر داخلہ محسن نقوی سے بات ہوئی ہے ، سکیورٹی کے اقدامات پہلے بھی کئے جارہے تھے اور مزید کئے جائیں گے،اصل مقصد یہ ہے کہ ان دہشتگردوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے ۔ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ جس دہشتگرد نے یہ واقعہ کیا ہے اس کے حوالے سے اور اس کے سہولت کاروں کے حوالے سے کافی حد تک پیشرفت ہوئی ہے ۔بہت حد تک ان کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا ہے اوران کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا ،
یہ نہیں ہو سکتا جمعہ کے مبارک دن ایک امام بارگاہ میں جمعہ کی نماز کے دوران اللہ کا ذکر ہو رہا ہو ، لوگ عبادت کر رہے ہوں اورمسلمانوں کو ہدف بنایا جائے ، ہم ان کا وہاں تک تعاقب کریں گے جہاں تک ان کی سوچ بھی نہیں جاتی، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ،کسی صورت بھی شدت پسندی اوردہشتگردی کی روک تھام کے لئے قطعاًکوئی سقم نظر نہیں آئے گا ، ہم ان کو نکیل ڈالیں گے ،ان کا تعاقب کریں گے ،جو خوارج ہیں ان کے خاتمے میں ہی پاکستان کی بہتری اور بھلائی ہے ۔انہوںنے کہاکہ جو علمائے کرام یہاں اظہار تعزیت اور اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں اس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء موجود ہیں ، ابھی پیغام امن کمیٹی وزیر اعظم سے ملی ہے ،عسکری قیادت سے بھی ملی ، اس نے مختلف شہروں کے دورے کئے ،
ہم امن کا پیغام لے کر نکلے ہیں اور واضح کیکا ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ،ہم سب مسلمان ہیں ،جو پیغام امن کمیٹی بنائی گئی ہے اس کا مقصد دہشٹگردوں کے بیانیے ،ان کی سوچ کا مقابلہ کرنا اور قوم کو یکجا کرنا ہے ،پیغام امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علماء موجود ہیں اس میں اقلیتوں کی نمائندگی ہے اور ریاست کی طرف سے پیغام بڑا واضح ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اب ہارڈ ٹارگٹ کے پیچھے جانے کی بجائے مضافات میں جا کر دور دراز علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں جو ان کی کمزوری کی نشانی ہے ،ان کو معلوم ہو گیا ہے کہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہاہے ،ہماری سکیورٹی فورسز اورفوج کی مہارت کودنیا مانتی ہے ، اسلام آباد واقعہ کے سہولت کاروں اور ہینڈ لرز کا بہت حد تک سراغ لگا لیا گیا ہے اور عوام کو اس کی مکمل تفصیلا ت سے جلد آگاہ کیا جائے گا ۔ یہ بات واضح ہے کہ حملہ آور افغانستان گیا تھا اور اس نے وہاں سے تربیت لی ہے ،افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے ہر سطح پر کلیئرٹی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک افسوس ناک واقعہ ہوا ہے ،جو لوگ یہ کر رہے ہیں ان کا کوئی دین ،ایمان اورمذہب نہیں ہے ، یہ باہر سے پیسہ لے کر مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں ،جو چند کوڑیوں کی خاطر مسلمان کا خون بہائے اس کا کیا ایمان اور دین ہوگا،یہ دائرہ اسلام سے خارج تھے،دہشتگردوں اور شدت پسندوںکو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں کچھ معاملات میرے سامنے رکھے گئے ہیں،شہداء کے لواحقین کے حوالے سے بات ہوئی ہے ،وزیراعظم شہباز شریف اوروزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات کی ہوئی ہے اور انہیں ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں، طلال چوہدری پہلے امام بارگاہ گئے پھر وہ ہسپتال بھی گئے ،اس واقعہ میں 170لوگ زخمی ہیں جنہیں بہترین طبی امداد کی فراہمی کے احکامات دئیے گئے ہیں،
میں یقین دلاتا ہوں کہ تمام زخمیوں کو علاج معالجے کے حوالے سے بہترین سہولیات دی جائیں گی اور ان کی قانونی معاونت کے حوالے سے بھی کوئی کسر نہیں چھوریں گے ، ہم متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان کی فضاء سو گوار ہے،ایک رنج اوردکھ ہے ۔میں دہشتگردوں کو پیغام دینا چاہتاہوں کہ اس رنج و غم سے ہمارا عزم بڑھا ہے ہم نے آپ کا خاتمہ کر کے دم لینا ہے ۔یہ ملک ستائیسویں رمضان کی شب معرض وجود میں ہے ،اللہ تعالیٰ کا خارجیوں کے حوالے سے قرآن کریم کا میں واضح حکم ہے کہ ان کو زمین سے بے دخل کر و، اگر یہ باز نہ آئیں تو ان کے ہاتھ پائوں کاٹیں ،پھر بھی باز نہ آئیں تو ان کو قتل کرو ،یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم جو قرآن پاک میں آیا ہے ، ہم ہر حال میں آپ کا تعاقب کریں گے ۔
انہوںنے کہا کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیز ،فوج اورقانون نافذ کرنے والے ادارے بڑے متحرک ہیں ، معلوم کر لیتے ہیں کون ہینڈلر تھا اور اس کی کہاں سے منصوبہ بندی ہوئی ، ہم اس واقعہ کی ساری تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھیں گے۔ ہم سب اکٹھے ہیں اور دہشتگردوں کے لئے یہاں کوئی گنجائش نہیں ، ہم ان کے لئے زمین تنگ کریں گے اوران کا خاتمہ کر کے دم لیں گے، تبھی پاکستان ترقی کرے گا اورہم آہنگی بڑھے گی ۔ ریاست کی طرف سے ،وزیر اعظم اورفیلڈ مارشل کی طرف سے پیغام ہے کہ ہم یکجہتی سے آگے بڑھیں گے اورنفرتوں کا مقابلہ کریں گے۔سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں کی ہارڈ ٹارگٹ تک پہنچنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ مضافات اوردور درازعلاقوں میں سوفٹ ٹارگٹ تک پہنچا جائے، کچہری میں جو وکلاء کو ہدف بنایا گیا وہ بھی ایف ایٹ ہوا جو ریڈ زون سے دور تھا، ہمارے سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں ، اس واقعہ کا جو ہینڈ اور سہولت کار ہیں ان کا تقریباً تعین کر لیا گیا ہے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔
انہوںنے بتایا کہ اس واقعہ میں علی ناصر رضوی کے فرسٹ کزن شہید ہوئے ہیںاور وہ بڑے غمگین ہیں ،اسلام آباد پولیس بھرپور سکیورٹی کر رہی ہے ۔یہ واضح ہو گیا ہے کہ سوفٹ ٹارگٹ دہشتگردوںکی نظر میں رہتا ہے لیکن جب چراغ بجھنے والا ہو تو وہ پھڑپھڑاتا ہے اوریہی حال اس وقت دہشتگردوںکا ہے ۔تحقیقات میں کافی حد تک سراغ لگا لیا گیا ہے ، اس میں کئی لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف وضاحت کے ساتھ آ چکا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی مذمت کافی نہیں ہوتی ، جہاں منصوبہ بندی کی گئی وہاں ایکشن لیا جانا چاہیے ،کارروائیاں ہونی چاہیے ،سکیورٹی فورسز پوری طرح الرٹ ہیں ،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ہماری فورسز کو بڑی کامیابی ملی ہیں ،بہت سے واقعات کو ہونے سے پہلے روکا گیا ہے ،
اس واقعہ میں بھی یقینی بنایا جائے گا کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور ہینڈ لرز کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور ایسی مثال قائم کی جائے کہ دوبارہ کسی کو ایسا واقعہ کرنے کی جرات نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ جو دہشتگرد اس واقعہ میں جہنم واصل ہوا ہے اس کی شناخت ہو چکی ہے ،شناخت کی بنیاد پر ہی مزید تحقیقات جاری ہیں اس کا جو نتیجہ نکلتاہے اس کے جو تانے بانے سامنے آتے ہیں وہ سامنے لائے جائیں گے ، میرے پاس بہت سے معلومات ہیں لیکن یہ حساس معاملات ہیں جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں انہیں سامنے نہیںلایا جا سکتا ۔، ہم اس واقعہ سے جڑے معاملات کے کافی قریب تک پہنچے ہوئے ہیں اور اس کی تفصیلات سامنے آئیں گی ۔انہوںنے کہاکہ ہم جوتشی نہیں یا ہمارے پاس غائب کا علم نہیں کہ اس طرح کے واقعہ کا پہلے سے پتہ کرا لیا جائے،ہمارے افسر اورجوان شہید ہوتے ہیں .
ہمارے سکیورٹی ادارے تحقیقات میں مہارت رکھتے ہیں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے کئی واقعات کا پیشگی تدارک کیا گیا ہے ،کچہری میں دہشتگردی کے واقعہ کے ہینڈلرز او رباقی لوگوں کو اڑتالیس گھنٹے میں پکڑا گیااورکیفر کردار تک پہنچایاگیا ہے ، اس واقعہ می بھی کافی پیشرفت ہو چکی ہے ،ہینڈ لر ز اورسہولت کار وں کو نشان عبرت بنائیں گے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی کے اداروں کی پوری دنیا میں مثال دی جاتی ہے ، دنیا کی مایہ ناز انٹیلی جنس ایجنسیز نے تحسین کی کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز اور سکیورٹی اداروں نے بغیر جانی نقصان کے جعفر ایکسپریس کے مسافروںکو نہ صرف بحفاظت بازیاب کرایا بلکہ دہشتگردوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ہم سے پانچ گنا بڑا دشمن مئی میں یہاں آیا تھا اس کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے اور وہ دو گھنٹے بعد گھ ٹنے کے بل پر صلح کرنے کے لئے منتیں کرنے پر آ گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ گوریلا وار فیئر روایتی جنگ سے مختلف ہوتی ہے ،پراکسی وارفیئر میں دشمن کھل کر سامنے نہیں آتا اورچھپا ہوا ہوتا ہے ،وہ دشمن کتنا بہادر ہے جو چھپ چھپا کر آ رہا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ یہ ہرگز سکیورٹی فیلئر نہیں ، ہمیں متحد ہوکر دہشتگردی کی سوچ کا مقابلہ کرنا ہے ، ہمارے پاس تمام تر مہارت موجود ہے اور ہم مقابلہ کر رہے ہیں ۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہاں آپریشن رد الفسار اور آپریشن ضرب عضب بھی ہوا تھا جس کے بعد خود کش دھماکے ختم ہو گئے تھے ،کراچی کا امن بھی بحال ہو گیا تھا لیکن پھر ایک حکومت آئی جس نے کہا تھا کہ دہشتگرد بھائی ہیں ان سے بات چیت کرنی چاہیے اور انہیں یہاں بسایا گیا تھا اسی طالبان خان کی سوچ کا ہم آج خمیازہ بھگت رہے ہیں ، قرآن میں جو حکم ہے ہم نے ان کو بے دخل بھی کیا ،ان کے ہاتھ پائوں بھی کاٹے انہیں قتل بھی کیا ، انہیں علاقے سے نکالا اور خاتمہ بھی کیا ،دہشتگردی جو واپس آئی ہے اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے ۔
انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں جو واقعات ہیں اس میں بی ایل اے ہے اور فتنتہ الہندوستان کے فنڈز لوگ ہیں ،وہاں بھرپور مقابلہ کر کے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا گیا اور ہم بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں ، ہم دہشتگردی کے بیانیے کا بھی مقابلہ کر رہے ہیں ، افغانستان کے علماء نے بھی فتوی دیدیا ہے کہ پاکستان کی سر زمین پر حملہ جائز نہیں ہے اور انہیں حرام قرار دیاگیا ہے ، جو دہشتگرد چھپ کے وار کرتے ہیں وہ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں ، انہیں مسلمان کہنا تو دور کی بات انہیںانسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ،جس مسلمانوںکو قتل کر رہے ہیں وہ سیدھا جہنم میں جارہے ہیں اس سے بڑی بد بختی اورکیا ہو سکتی ہے ۔
علامہ محمد حسین اکبر نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ان کے ہمراہ آنے والے علماء کے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ غم کے لمحات میں یہاں تشریف لائے ،جہاں تک سانحہ اسلام آباد کا تعلق ہے اس سے پورا ملک متاثر ہو اہے ،عالمی سطح پر جو سازشیں ہو رہی ہیں یہ اس کی کڑی ہے کہ پاکستان کو مستحکم نہ رہنے دیا جائے ،خاص طو رپر دو مغربی صوبے ان کے نشانے پر ہیں ۔خدا نے کہا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،ہم دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں اورہم مقابلہ کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ہم اپنے پڑوسی ایران کے بھی ساتھ ہیں ،جہاں جہاں دشمن کا خطرہ ہے ہماری حکومت بیدار ہے ہمیں بھی بیدار ہونا چاہیے ۔ہم نے کہا امام بارگاہوں اور مساجد کی سکیورٹی مزید بڑھائی جائے، جو متاثرین ہیں ان کے ساتھ ہر طرح کی ہمدردی کا مظاہرہ کیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ پاک فوج نے اسلام اور امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں ،
ہم ان قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ، ہمیں مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ دشمن پاکستان کی طرف متوجہ ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان مضبوط ہے تو باقی اسلامی دنیا مضبوط ہے ،سعودی عرب ،ایران ،ترکیہ ،پاکستان کے اتحاد ہورہے ہیں، یہ ہمارے لئے حوصلہ افزاء اور دشمن کے لئے موت کا پیغام ہے اسی وجہ سے ہمارا دشمن متحرک ہے ۔ پارا چنار اور اس جیسے دیگر حساس علاقوںمیں کڑی سکیورٹی کی ضرورت ہے اور ہمیں پہلے سے زیادہ سکیورٹی انتظامات کرنا ہے ۔جن مائوں کے بیٹے شہید ہوئے ہیں ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں، ہم نے ان واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے ، ہمارے اندر بھرپور یکجہتی اور اتحاد پایا جاتا ہے۔








